انوارالعلوم (جلد 4) — Page 209
ر العلوم جلد ۴ شخص ۲۰۹ حقیقت الامر کہ ہر ایک مخالف کی کتاب پہلے پڑھ لی جائے اگر آپ کو یہ شبہ پیدا ہو کہ اس طرح تو ہر ایک یہ کہہ دے گا کہ مجھے ایسا کامل ایمان حاصل ہو چکا ہے کہ مجھے مزید غور کی ضرورت نہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ خود ایک دعوئی ہو گا جو دلیل کا محتاج ہو گا اور اگر کوئی اپنے ایمان کو عینی ایمان ثابت کر دے گا تو پھر بے شک اس کا حق ہو گا کہ اس کا دعوی تسلیم کر لیا جاوے۔علاوہ ازیں یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ یہ استثناء صرف میرا ہی قائم کردہ نہیں بلکہ ہمیشہ سے ایسا ہوتا چلا آیا ہے۔حدیث صحیح سے ثابت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت عمرہ کو بائبل پڑھتے ہوئے دیکھا اور اس پر آپ کو ڈانٹا۔چنانچہ جابر سے روایت ہے۔اِنَّ عُمَرَ ابْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَتَى رَسُولَ اللهِ بِنُسْخَةٍ مِّنَ التَّوْرَاةِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللهِ هَذِهِ نُسْخَةٌ مِّنَ التَّوْرَاةِ فَسَكَتَ فَجَعَلَ يَقْرَأَ وَوَجْهُ رَسُولِ اللهِ ﷺ يَتَغَيَّرُ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ فَكَلَتْكَ التَّوَاكِلُ مَا تَرَى مَا بِوَجْهِ رَسُولِ اللهِ ع فَنَظَرَ عُمَرُ إلى وَجْهِ رَسُوْلِ اللَّهِ فَقَالَ اَعُوْذُ بِاللهِ مِنْ غَضَبِ اللهِ وَ مِنْ غَضَبِ رَسُولِهِ : الدار میجلد اول صفحه ۱۱۴ باب نمبر ۳۹ باب يتقى من تفسير حديث النبى وقول غير عند قوله : یعنی حضرت عمر رسول الله اللے کے پاس آئے اور آپ کے پاس ایک نسخہ تو رات کا تھا۔آپ نے نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ تو رات ہے۔رسول اللہ ا خاموش رہے اور حضرت عمر نے اس کو پڑھنا شروع کیا اور رسول اللہ ﷺ کا چہرہ متغیر ہو رہا تھا۔اس پر حضرت ابو بکڑ نے کہا رونے والیاں تم پر روئیں۔عمر ا دیکھتے نہیں کہ رسول اللہ کے چہرے سے کیا ظاہر ہوتا ہے۔اس پر حضرت عمر نے منہ اٹھا کر دیکھا اور کہا کہ میں خدا اور اس کے رسول کے غضب سے پناہ مانگتا ہوں۔اب کیا کوئی شخص کہہ سکتا ہے کہ آنحضرت ا کو خطرہ تھا کہ حضرت عمرؓ اس حق کو دیکھ کر نعوذ باللہ اسلام سے بیزار ہو جاویں گے۔کیا اس کی صرف یہ وجہ نہ تھی کہ حضرت عمر مذ ہبی مباحثات کرنے والے آدمی نہ تھے اور اس مرتبہ پر پہنچ چکے تھے کہ اب مزید تحقیق کی ان کو ضرورت نہ تھی پر ان کا یہ فعل بے ضرورت تھا اور خطرہ تھا کہ ان کو دیکھ کر بعض اپنے مذہب کی پوری واقفیت نہ رکھنے والے بھی اس شغل میں پڑ جاویں اور ان باتوں کی تصدیق کر دیں جو باطل ہیں اور ان کی تکذیب کر دیں جو حق ہیں۔اور کوئی تعجب نہیں کہ اسی وجہ سے رو کا ہو کہ آپ عام مجلس میں بیٹھ کر پڑھتے تھے اور اس سے خطرہ ہوا کہ ان کو دوسرے لوگ دیکھ کر ان کی اتباع نہ کریں۔الگ پڑھتے تو شاید آپ کو نہ روکا جاتا۔پس کیا آپ آنحضرت