انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 186 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 186

جلد TAY اچھے کھانے کھلائے۔پس اس خواہش میں چونکہ قرب الہی کی بنک ہے اس لئے اس کو نا پسند کیا گیا ہے۔گو اس میں کوئی شک نہیں کہ الہامات قرب الہی کے اظہار کا ایک ذریعہ ہیں۔جس طرح کہ مہمان کے لئے عمدہ کھانا تیار کرنا محبت اور اخلاص کی علامت ہے۔اب دو باتیں اور بیان کرتا ہوں۔ایک تو یہ کہ صادق رویا کے پہچاننے کے کیا ذرائع ہیں۔دوسری یہ کہ مکالمہ خاص کی شناخت کرنے کے کیا طریق ہیں۔(1) الهام ، کشف رویا اور خواب خواہ الہام کی صداقت معلوم کرنے کے طریق کسی رنگ میں ہوں ان کی صداقت کی ایک پہچان یہ ہے کہ ان میں کبھی خلاف شریعت کوئی بات نہیں بتلائی جاتی۔اگر کسی کو کوئی ایسا الہام، خواب یا رویا ہو تو اسے سمجھ لینا چاہئے کہ اس کے بچے ہونے کی ایک علامت ہاتھ آگئی ہے۔گو اس کی صداقت کی اور بھی دلیلیں ہیں اور ہو سکتا ہے کہ ایسی خواب حدیث النفس ہی ہو تاہم یہ بھی ایک دلیل ہے۔دوسری علامت یہ ہے کہ اس کے اندر ایسی بات بتلائی جاتی ہے جس سے قدرت خداوندی ظاہر ہوتی ہے۔یعنی آثار اور علامات کے ظاہر ہونے سے پہلے بتائی جاتی ہے۔اس کے متعلق میں رسول کریم ﷺ اور حضرت مسیح موعود کی مثالیں بیان کر چکا ہوں اب ایک اپنا واقعہ سناتا ہوں۔اسی سال ایک معاملہ کے متعلق جو گورنمنٹ کے ساتھ تھا ایسا واقعہ ہوا کہ کمشنر صاحب کی چٹھی میرے نام آئی کہ فلاں امر کے متعلق میں آپ سے کچھ کہنا چاہتا ہوں۔لیکن مجھے آج کل اتنا کام ہے کہ میں گورداسپور نہیں آسکتا اور قادیان سے قریب تر جو میرا مقام ہے وہ امر تسر ہے یہاں اگر آپ آسکیں تو لکھوں۔اس چٹھی میں معذرت بھی کی گئی کہ اگر مجھے فرصت ہوتی تو میں گورداسپور ہی آتا لیکن مجبور ہوں۔اس چٹھی کے آنے سے تین دن بعد مجھے رویا ہوئی کہ میں کمشنر صاحب کو ملنے کے لئے گورداسپور جا رہا ہوں اور یوں وغیرہ کا انتظام ڈاکٹر رشید الدین صاحب کر رہے ہیں۔لیکن جس دن میں نے رویا دیکھی اس دن ڈاکٹر صاحب قادیان میں موجود نہیں تھے بلکہ علی گڑھ گئے ہوئے تھے۔اور اسی رات کی صبح کو کمشنر صاحب کی چھٹی آگئی جو بلا کسی ہماری تحریک کے تھی کہ مجھے کچھ کام گورداسپور بھی نکل آیا ہے اگر آپ کو امرتسری آنے میں تکلیف ہو تو میں فلاں تاریخ کو گورداسپور آ رہا ہوں آپ وہاں آجائیں۔اس چٹھی