انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 185 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 185

دم جلد " ۱۸۵ شخص کی خبر پڑھ کر سناؤ جس پر خدا تعالیٰ نے اپنا کلام نازل کیا مگر وہ کلام الہی سے علیحدہ ہو گیا۔کیونکہ شیطان اس کے پیچھے پڑگیا۔اور وہ ہلاک شدوں میں سے ہو گیا۔اور اگر ہم چاہتے تو ان الہامات کے ذریعہ سے اس کے درجہ کو بلند کر دیتے۔لیکن وہ خود زمین کی طرف جھک گیا اور اپنی خواہشات کے پیچھے پڑ گیا۔اس آیت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس شخص کو الہام ہوتا تھا اور یہ بھی پتہ لگتا ہے کہ وہ مقبول بھی تھا۔کیوں کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنَهُ بهَا وَلَكِنَّهُ اخْلَدَ إِلَى الْأَرْضِ وَاتَّبَعَ هَوَنُهُ ، یعنی جس طرح وہ کام کر رہا تھا اسی طرح کرتا قوية رہتا تو ہم اسے ضرور رفعت دیتے لیکن وہ زمین کی طرف جھک گیا اور اپنی ہوا و ہوس کے پیچھے پڑ گیا اس لئے تباہ ہو گیا۔تو چونکہ رویا کی کثرت سے بعض دفعہ انسان میں عجب پیدا ہو جاتا ہے اور وہ ہلاک ہو جاتا ہے اس لئے رویا کی خواہش سے حضرت صاحب نے روک دیا ہے۔ورنہ حضرت صاحب کا یہ مطلب نہیں کہ رویا خدا تعالٰی کے فضلوں میں سے کوئی فضل نہیں۔اس خواہش سے روکنے کا ایک اور بھی سبب ہے اور وہ یہ کہ رؤیا اور الہام اصل نہیں ہیں بلکہ اصل چیز خدا تعالیٰ کا قرب ہے۔رویا اور الہام اس قرب کے اظہار کا ایک ذریعہ ہیں۔پس بندہ کو چاہئے کہ خدا تعالٰی کے قرب کی خواہش کرے نہ کہ رویا اور الہام کی جو کہ قرب کے اظہار کا ایک ذریعہ ہیں۔ایسا شخص جو رویا اور الہام کی خواہش کرتا ہے وہ گویا خدا تعالی کے قرب کو ایک کم حیثیت شئے قرار دیتا ہے۔اور نیتوں کے فرق سے اعمال میں فرق پڑ جاتا ہے۔پس ایسا شخص خدا تعالیٰ کی ناراضگی کو اپنے اوپر نازل کرتا ہے۔اس کی موٹی مثال یہ ہے کہ ہر شخص جو اپنے دوست کے ہاں جاتا ہے وہ اس کی کچھ نہ کچھ حسب توفیق خاطر کرتا ہے اور اپنی حیثیت کے مطابق اس کے لئے عمدہ کھانے پکاتا ہے۔اب ایک شخص ایک دوسرے شخص کے ہاں اس کی محبت کے لئے جائے اور ساتھ اس کے پیش کردہ کھانے بھی کھائے اور ایک کھانے کی نیت سے جائے تو دونوں شخصوں نے گو کام تو ایک ہی کیا ہے مگر نیتوں کے فرق کی وجہ سے دونوں کے کام میں فرق ہو گیا ہے۔ایک شخص اعلیٰ اخلاق والا قرار دیا جائے گا اور دو سرا کمینہ۔اور کوئی نہیں کہہ سکتا کہ اس نے بھی کھانا کھایا ہے اُس نے بھی پھر وہ کمینہ کیوں ہے۔اسی طرح بے شک الہامات ایک اعلیٰ درجہ کی چیز ہیں اور ان کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ اپنے بندے سے اپنے تعلق کا اظہار کرتا ہے۔مگر ان کی خواہش کرنا ایسا ہی ہے جیسا کہ کسی شخص کا کسی دوست کے پاس اس نیت سے نہ جانا کہ میں اس سے ملوں بلکہ اس لئے کہ وہ مجھے شخص