انوارالعلوم (جلد 4) — Page 184
انوار العلوم جلد ۱۸۴ حقیقته الرؤيا مجھے کثرت سے غیب کی خبریں دی گئی ہیں اس لئے میرا درجہ اس امت کے لوگوں سے بڑا ہے اور یہ درجہ مجھ سے پہلے اس امت میں سے کسی کو نہیں دیا گیا۔بظاہر ان دونوں باتوں میں اختلاف معلوم ہوتا ہے۔کیونکہ جب آپ کا درجہ اس لئے بڑا ہے کہ آپ کو کثرت سے غیب کی خبریں بتائی گئی ہیں تو پھر دوسروں کو کیوں اس کی خواہش کرنے سے منع فرماتے ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ ایسے انسان جو خدا کے مامور ہوتے ہیں ان کے پیچھے ایک دیوار کھینچ دی جاتی ہے۔اور وہ ذرہ بھر بھی پیچھے نہیں ہٹ سکتے۔اگر وہ اپنی تعریف کرتے ہیں یا اپنی فضیلت دوسروں پر جتلاتے ہیں تو اس سے ان میں کبھی عجب اور تکبر نہیں پیدا ہو تا جو انسان کی ہلاکت کا موجب ہوتا ہے۔کیونکہ اگر وہ اپنی تعریف کرتے ہیں تو اس لئے نہیں کہ اپنی ذات کو بڑا بناتے ہیں بلکہ اس لئے کہ لوگوں کو خدا کی طرف متوجہ کریں۔اسی طرح اگر اپنی کوئی فضیلت ظاہر کرتے ہیں تو اس لئے نہیں کہ اپنے تکبر کا اظہار کریں بلکہ اس لئے کہ خدا کی قدرت اور طاقت کی طرف توجہ دلائیں۔اس لئے ان کا ایسا کرنا انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا تا۔لیکن دوسرے لوگ اس طرح کرنے سے ہلاک اور برباد ہو جاتے ہیں۔پس جب تک کسی کو مکالمہ کا خاص درجہ حاصل نہ ہو اور وہ خاص درجہ محدثیت و صدیقیت یا مأموریت و نبوت کا درجہ ہے اس وقت تک خطرہ ہے کہ ایسا شخص خوابوں اور الہاموں پر فخر کر کے عجب کی مرض میں گرفتار ہو جاوے اور اس طرح بجائے ترقی کے الہام اسے اسفل السافلین میں گرانے کا موجب ہو جائیں۔پس چونکہ الہامات اور رؤیا کے ساتھ ایک خطرہ بھی لگا ہوا ہے اس لئے ان کی خواہش کرنے سے روکا ہے تا ایسا نہ ہو کہ انسان اپنے ہاتھوں خود ہلاکت کے گڑھے میں گر جائے۔ہو سکتا ہے کہ ایسا شخص نیک اور متقی ہو مگر اس پر شیطان ضرور حملہ کرے گا اور نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گا۔اس لئے جب تک وہ مقام نہ حاصل ہو جس پر پہنچنے کے بعد انسان شیطان کے حملہ سے بالکل محفوظ ہو جاتا ہے اس وقت تک خوابوں اور الہامات کی خواہش کرنی گویا ہلاکت میں پڑتا ہے۔اور جب وہ حالت آتی ہے تو پھر اس کی خواہش کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔الہامات کا دروازہ خود بخود اس پر کھل جاتا ہے۔قرآن کریم میں ایسے شخص کی مثال موجود ہے جس کو الہام ہوتے تھے۔مگر اس کے دل میں عجب پیدا ہو گیا اور وہ ہلاک ہو گیا۔جیسا کہ فرماتا ہے وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ الَّذِي أَتَيْنَهُ أيْتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْهَا فَأَتْبَعَهُ الشَّيْطَنُ فَكَانَ مِنَ الغُرِيْنَ ، وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْتُهُ بِهَا وَلَكِنَّةُ اخْلَدَ إِلَى الْأَرْضِ وَاتَّبَعَ هَوَهُ (الاعراف : ۱۷۶-۱۷۷) یعنی ان کو اس