انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 150 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 150

انوار العلوم جلد ۴ ۱۵۰ حقيقة الرؤيا خدا تعالیٰ نے ہماری جماعت کو جس رنگ میں ہلایا ہے اس سے آپ لوگ ضرور یہ سبق حاصل کریں گے کہ دین کی باتوں کو غور سے سننا اور اچھی طرح سمجھنا نہایت ضروری ہے۔کیسا حیرت کا مقام ہے کہ اس وقت دو گروہ کھڑے ہیں جن میں سے ایک تو کہتا ہے کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ حضرت مرزا صاحب خدا کے نبی اور رسول ہیں اور دوسرا کہتا ہے کہ نبی نہیں ہیں۔اس وقت اس بات کو جانے دو کہ کون حق پر ہے اور کون باطل پر لیکن کیا اس سے یہ ثابت نہیں ہو جاتا کہ ان دونوں میں سے کوئی ایک گروہ ضرور ایسا ہے جو حضرت مرزا صاحب کی باتوں کو سنتا تھا مگر اس کا سننا نہ سننے کے برابر تھا وہ آپ کی تائید میں مضامین لکھتا اور کے لکھے ہوئے مضامین کو بڑھتا تھا مگر خود کچھ فائدہ نہ اٹھاتا تھا۔ضرور ایک گروہ ایسا تھا جسے اب نقصان پہنچا ہے۔اس گروہ کے پیدا ہونے کی وجہ یہی ہے کہ اس نے حضرت مسیح موعود کی باتوں کو غور و فکر سے نہ سنا ماننے اور قبول کرنے کیلئے نہ سنا جس سے اسے نقصان اٹھانا پڑا اور سیدھی اور صاف باتوں کے سمجھنے سے محروم رہ گیا۔اس سے تمہیں یہ سبق حاصل کرنا چاہئے کہ ہر بات کو غور اور توجہ سے سننا چاہئے کیونکہ کسی بات کو خواہ وہ کیسی ہی آسان ہو اس کے بغیر انسان سمجھ نہیں سکتا اور جب سمجھ نہیں سکتا تو فائدہ بھی نہیں اٹھا سکتا۔اس وقت جو مضمون میں بیان کرنے لگا ہوں اس سے بھی اسی وقت فائدہ حاصل کیا جاسکتا ہے جبکہ اسے غور سے سنا اور سمجھا جائے اس لئے جو دوست چاہیں اس کے نوٹ لکھتے جائیں۔سمجھنے اور یاد کرنے کی یہ بھی ایک ترکیب ہے ورنہ یوں تو تقریر لکھی جارہی ہے چھپ کر ہر ایک تک پہنچ سکے گی۔الهام کشف رویا اور خواب کا مسئلہ ایک ایسا اہم تمام مذاہب کی بنیاد مسئلہ الہام پر ہے مسئلہ ہے کہ تمام مذاہب کی بنیاد اس پر قائم ہوئی ہے۔دیکھو اسلام اگر اپنی صداقت کی کوئی دلیل رکھتا ہے تو محض اس بات کے ثابت ہو جانے کی وجہ سے کہ خدا کلام کرتا ہے اور قرآن کریم خدا کا کلام ہے۔اسی طرح اگر یہودیت عیسائیت اور دیگر مذاہب حقیقت رکھتے ہیں تو اسی امر پر کہ خدا کلام کرتا ہے اور ان کی کتابیں اس کا کلام ہیں۔غرضیکہ جس قدر مذاہب دنیا میں پائے جاتے ہیں ان کی بنیاد اسی بات کے ثابت کرنے ہ ہے کہ الہام ایک حقیقت ہے۔لیکن اگر آج کوئی جماعت ایسی نکل آئے جو ثابت کردے کہ الہام کوئی چیز نہیں، کشف کوئی حقیقت نہیں رکھتا، رویا ایک غلط خیال ہے، خواب محض وہم ہے تو تمام کے تمام مذاہب اور ساری کی ساری کتابیں جنہیں آسمانی کہا جاتا ہے باطل ہو جاتی ہیں۔کیونکہ ان کی بنیاد اسی پر ہے کہ الہام ہے ، رویا ہے خواب ہے کشف ہے۔اگر اس