انوارالعلوم (جلد 4) — Page 128
انوار العلوم جلدم علم حاصل کرو پاس ٹھنڈے پانی کی بھری ہوئی جھجری بھی موجود ہو لیکن وہ خود تو اس سے نہ ہٹے اور دوسروں کو کہے کہ تم پی لو تو وہ کہیں گے کہ جب تمہیں خود بھی پیاس ہے تو تم کیوں نہیں پیتے ، تمہارا نہ پینا بتاتا ہے کہ یا تو جھجری میں پانی ہی نہیں ہے یا اگر ہے تو اس میں زہر ملا ہوا ہے جس سے ہم ہلاک ہو جائیں گے۔یہی بات اس شخص کو کسی جائے گی جو دوسروں کو تو کہے کہ اسلام کی تعلیم سیکھو، رسول کریم ﷺ کے ارشادات پر عمل کرو حضرت مسیح موعود کے احکام کو بجالاؤ کہ اس سے روحانی زندگی اور خدا تعالی کی معرفت حاصل ہوتی ہے لیکن وہ خود ایسا نہ کرے اور جب اس سے پوچھا جائے کہ کیا تم خود ایسا کرتے ہو؟ تو وہ کہے کہ نہیں میں تو ایسا نہیں کرتا۔پس جو شخص خود ان باتوں کو نہیں سیکھتا اور دوسروں کو سیکھنے کیلئے کہتا ہے وہ دراصل اسلام اور احمدیت کا دشمن ہے، احمدیت کے خلاف لوگوں کے دلوں میں شکوک اور شبہات پیدا کرتا ہے کیونکہ جب وہ خود نہیں سیکھتا تو دوسرے کہہ سکتے ہیں کہ اس میں ضرور کوئی نقص اور کمزوری ہے تبھی تو وہ خود نہیں سیکھتا۔اس لئے آپ لوگوں کیلئے نہایت ضروری ہے کہ پہلے خود اس علم کو حاصل کریں اور پھر اوروں کو سیکھنے کی دعوت دیں۔میرے دوستو! قرآن کریم کے اندر جس قدر خوبیاں ہیں میرے پاس قرآن کریم کی خوبیاں ایسے الفاظ نہیں ہیں کہ ان کو بیان کر سکوں اور اگر الفاظ ہوں بھی تو بھی کوئی انسان ایسا نہیں ہے جو ان کو پورا پورا بیان کر سکے حتی کہ محمد اللہ بھی ایسا نہیں کرسکے کیونکہ قرآن کریم خداتعالی کا کلام ہے اس لئے اس کی خوبیوں کا اندازہ کوئی بھی انسان نہیں کر سکتا۔پھر ایک انسان مخلوق ہے اور خدا کی عصمتیں غیر محدود اس بے پایاں سمندر کا حال وہی جانتا ہے جو اس میں کودتا ہے اور جو کودتا ہے وہ بتا نہیں سکتا کہ اس نے کیا کچھ دیکھا اور جو کچھ بتائے وہ گو دوسروں کے موہنے اور انہیں والا وشیدا کرنے کیلئے کافی ہوتا ہے مگر اس سمندر کے مقابلہ میں قطرہ کی حیثیت بھی نہیں رکھتا۔پس میں وہ الفاظ نہیں پاتا کہ جن کے ذریعہ قرآن کریم کی خوبیاں آپ لوگوں کے سامنے کھول کر بیان کروں اور آپ کو مجبور کردوں کہ قرآن کریم کے مطالب اور معانی سے آگاہ ہونے کے فکر میں لگ جائیں۔پھر میں کس طرح آپ کو سناؤں کہ قرآن کریم کا سیکھنا آپ لوگوں کیلئے بہت ہی ضروری ہے سوائے یہ کہنے کے کہ آپ خود ہی غور کریں اور دیکھیں کہ یہ کتنا اہم اور ضروری معاملہ ہے۔دنیا میں لوگ کسی بات کی اہمیت جتلانے کیلئے کہا کرتے ہیں کہ یہ زندگی اور موت کا سوال ہے مگر