انوارالعلوم (جلد 4) — Page 121
انوار العلوم جلدم علم حاصل کرو کر سناتے یا سنواتے جاتے تھے اور وہ علم حاصل کرتے جاتے تھے۔تو بغیر لکھنے پڑھنے کے بھی انسان علم سیکھ سکتا ہے اور اس طرح رسول کریم اے کے اس حکم کو پورا کر سکتا ہے اور ان لوگوں میں شامل ہو سکتا ہے جن کے متعلق ارشاد ہے۔اِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ العُلَموا ورنہ بغیر علم دین سیکھنے کے خشیت اللہ نہیں پیدا ہو سکتی اور جب تک خشیت اللہ نہ ہول کوئی مومن نہیں ہو سکتا۔کیا یہ کہا جاسکتا ہے کہ فلاں شخص مومن ہے گو خدا کا خوف اس کو نہیں ہے۔ہرگز نہیں کیونکہ مومن وہی ہوتا ہے جس کو خدا کا خوف ہو اور یہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے جبکہ علم دین حاصل کیا جائے۔پس کوئی مومن مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ علم دین نہ حاصل کرلے۔اب جبکہ علم دین کا حاصل کرنا اس ہمارے لئے علم دین سیکھنا کس قدر ضروری ہے قدر ضروری ہے تو میں پوچھتا ہوں کہ اس کیلئے آپ لوگ کیا کوشش کرتے ہیں۔ہم نے تمام دنیا کو اس لئے اپنا دشمن بنالیا ہے کہ سچے مومن بن جائیں۔ہمارا مولویوں، صوفیوں، گدی نشینوں، امیروں اور غریبوں سے اس لئے جھگڑا ہے کہ ہم سے اللہ تعالیٰ راضی ہو جائے لیکن اگر اتنی مخالفت اور اتنے جھگڑے کر کرا کے ہم مومن نہ ہوئے تو ہمارا کیا حال ہو گا۔یہی مثل صادق آئے گی کہ نہ ادھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے۔ہمارے مخالفوں میں سے اکثر کو تو مرنے کے بعد سزا ہوگی۔کہ کیوں تم نے ہمارے نبی کو نہ مانا مگر وہ اس دنیا کے آرام اور آسائش سے تو فائدہ اٹھا رہے ہیں لیکن ہم نے تو ان سے قطع تعلق کر کے دنیا کے فائدوں پر بھی لات مار دی ہے اب اگر ہمارا تعلق خدا تعالیٰ سے بھی پیدا نہ ہوا تو پھر ہم کہیں کے بھی نہ رہے۔یہ تو ایسی ہی مثال ہوگی کہ ایک بلند مینار ہے جس کے نیچے ہمارے مخالفین کھڑے ہیں اور ہم اس کے درمیان میں لٹک رہے ہیں۔یہ درست ہوگا کہ جو لوگ نیچے کھڑے ہیں وہ مینار کے اوپر چڑھے ہوؤں کی طرح دور دور کا فرحت افزا نظارہ نہیں دیکھ سکتے ٹھنڈی اور صحت بخش ہوا نہیں کھا سکتے ، مقام عزت پر چڑھنے سے محروم ہیں لیکن ان کے پاؤں تو زمین پر ٹکے ہوئے ہیں۔مگر وہ جنہوں نے زمین پر سے تو اپنے قدم اٹھالئے ہیں اور اوپر بھی نہیں پہنچے بلکہ درمیان میں ہی لٹک رہے ہیں ان سے زیادہ خطرناک حالت میں کون ہو سکتا ہے۔پس جب ہم نے سب کو اس لئے ترک کر دیا ہے کہ خدا تعالیٰ کے مقرب ہو جائیں اور اس زمانہ میں جو اس نے روشنی کا مینار کھڑا کیا ہے اس کے