انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 117 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 117

116 علم حاصل کرو انوار العلوم جلدم سیکھنے میں لگی رہتی ہے۔ایک لڑکا جو انگریزی پڑھتا ہے ہزاروں روپے اس پر خرچ ہو جاتے ہیں تب وہ جاکر کہیں بی اے پاس کرتا ہے۔پھر بدنی تکلیف جو وہ اٹھاتا ہے جدا ہے، دماغ پر بوجھ پڑتا ہے اور بعض کی تو صحت بالکل خراب ہو جاتی ہے مگر والدین اسی پر زور دیتے ہیں کہ ضرور پڑھو اس لئے کہ وہ لڑکا اور اس کے والدین دونوں جانتے ہیں کہ بغیر حصول علم کے اس کی زندگی تباہ ہوگی۔مگر علم حاصل کرنا آسان کام نہیں ہر ایک علم کے حاصل کرنے کیلئے محنت کی ضرورت ہوتی ہے۔ایک نجار اپنے بچہ کو نجاری سکھانے کیلئے بچپن سے ہی کام میں لگائے رکھتا ہے تب بڑی عمر میں جاکر وہ کچھ سیکھتا ہے، اسی طرح ایک لوہار اپنے بچے کو کام میں مصروف رکھتا ہے تب وہ کچھ کام کرنے کے قابل ہو سکتا ہے یہی حال اور علوم کا ہے۔کے حاصل کرنے میں محنت مشقت، جان، مال، احساسات جذبات کو قربان کرنا پڑتا ہے تکلیفیں برداشت کرنی پڑتی ہیں مال خرچ کرنا پڑتا ہے، آرام چھوڑنا پڑتا ہے، لیکن لوگ بڑی خوشی سے ان تکالیف کو برداشت کرتے ہیں۔پس غور کرنا چاہئے کہ جب علم بغیر محنت کے نہیں حاصل ہو سکتا اور علم کے بغیر گزارہ بھی نہیں اور لوگ چھوٹے چھوٹے علوم کیلئے عمریں صرف کر دیتے ہیں تو وہ علم جو سب علوم سے زیادہ مفید اور بابرکت ہے اس کیلئے کس قدر علوم اور کوشش اور سعی کرنی چاہئے۔دنیا میں دو ہی علم ایسے ہیں جن کے نہ جاننے سے ہر فرد واحد کو نقصان ہو سکتا خاص علم ہے، باقی کے نہ جاننے سے ہر ایک شخص کو نقصان نہیں ہوتا ہاں ان کے جاننے سے فائدہ ضرور ہوتا ہے اور وہ دو علم وہی ہیں جو رسول کریم ﷺ نے فرمائے ہیں۔العِلْمُ عِلْمَانِ عِلْمُ الْاَبْدَانِ وَ عِلْمُ الْاَدْيَانِ اصل میں علم دو ہی ہیں ایک جسموں کا علم دوسرے دینوں کا علم اور یہ دونوں اس قسم کے ہیں کہ ان کے نہ جاننے سے نقصان پہنچتا ہے۔چنانچہ رسول کریم کے متعلق ایک واقعہ لکھا ہے کہ آپ نے کہیں جاتے ہوئے دیکھا کہ درمیان میں ایک شخص کھڑا ہے اور اس کے ارد گرد بڑا ہجوم ہے۔آپ نے فرمایا یہاں کیا ہے کیوں لوگ کھڑے ہیں؟ ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ ! ایک علامہ یعنی بڑا عالم ہے اس کے ارد گرد لوگ جمع ہیں۔آپ نے فرمایا کس علم کا عالم ہے۔عرض کی گئی شعر کہتا ہے، تاریخ کا واقف ہے، زبان دانی میں ماہر ہے۔آپ نے فرمایا علم لا بضر جهله یہ علم تو ہیں لیکن ایسے کہ ان کے نہ جاننے سے کوئی نقصان نہیں ہوتا۔تو کئی علم ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے نہ