انوارالعلوم (جلد 4) — Page 110
انوار العلوم جلد ۴ علم حاصل کرو مخاطب کر کے کہتا ہے کہ دیکھو میرے رسول کے کیسے اخلاق ہیں کہ ایک اندھے کی ایک بات کو اس نے ناپسند کیا تو اس کا اظہار اس پر نہ ہونے دیا۔اگر عتاب ہوتا تو پھر رسول اللہ کو مخاطب کیا جاتا۔تا یہ نہ ثابت ہو کہ خدا تعالٰی اپنے محبوب کی شکایت دوسروں کے پاس کرتا ہے۔یہ بات میں نے اس لئے بتائی ہے کہ ہم اس نبی کی امت ہیں جس کے ایسے اعلیٰ درجہ کے اخلاق تھے کہ آپ نہ چاہتے تھے کہ میری بات سے کسی کی دل شکنی نہ ہو۔پس تمہاری بھی ہر ایک بات اور ہر ایک حرکت ایسی ہی ہونی چاہئے کہ جس سے کسی کی دل شکنی ہو۔معمولی باتوں پر رنجیدہ نہیں ہونا چاہئے بعض لوگوں کو مجمع میں ذرا سا دھکا لگ جائے تو ناراض ہو جاتے ہیں۔وہ اگر میرے پاس کھڑے ہوں تو انہیں پتہ لگے کہ میری کیا حالت ہوتی ہے۔مصافحہ کرتے وقت ایک صاحب ادھر کھینچتے ہیں تو دوسرے دوسری طرف اور تیسرے تیسری طرف۔پھر جب ایک صاحب ہاتھ پکڑ لیتے ہیں تو دوسرے ان کی بجائے پکڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔اس طرح میں کبھی ایک طرف اوندھا ہو جاتا ہوں اور کبھی دوسری طرف کبھی آگے اور کبھی پیچھے۔پس اگر ایسے مجمع میں دھکتے کی وجہ سے ناراضگی ہو سکتی ہے تو مجھے ناراض ہونا چاہئے تھا جس کی یہ حالت ہوتی ہے نہ کہ انہیں جن کو کوئی ایک آدھ دھکا اتفاقاً لگ جاتا ہے۔مگر مجھے تو اس سے خوشی ہی ہوتی ہے نہ کہ ناراضگی کیونکہ میں خیال کرتا ہوں کہ میں اسی خاندان میں سے ہوں کہ جب وہ ہندوستان میں آیا تو سارا ملک اس کا دشمن اور خون کا پیاسا تھا لیکن رسول کریم ﷺ کی اطاعت اور فرمانبرداری سے یہ مقام حاصل ہو گیا ہے کہ اب لوگ پروانوں کی طرح ہم پر گرتے ہیں یہ خیال کر کے مجھے تو ہر دھکتے میں مزا ہی آجاتا ہے۔ایک دوسرے سے بڑھ کر اخلاق دکھاؤ پس آپ لوگوں کو یہ بات مد نظر ہونی چاہئے کہ ایک دوسرے سے بڑھ کر اخلاق دکھائیں کیونکہ اگر ہم اعلیٰ اخلاق نہ دکھلائیں گے تو اور کون ہوگا جو دکھلائے گا۔ہم حقیقی اسلام کے دعویدار ہیں اور رسول کریم ﷺ کے صحابہ کرام میں شامل ہیں۔اگر ہمارے اخلاق کامل نہ ہوں گے تو اور کس کے ہوں گے۔پس ہر ایک موقع پر ایک دوسرے کے ساتھ خلق اور پیار سے پیش آؤ اور ایسی محبت دکھلاؤ کہ اگر ایک کو دکھ ہو تو سب کو اس کا درد محسوس ہو۔مومن ایک خدا کو ماننے والے ہیں اس لئے انہیں ایک ہی ہونا چاہئے اور ایسی محبت دکھانی چاہئے کہ