انوارالعلوم (جلد 4) — Page xiii
انوار العلوم جلد ۴ دلیل ہے۔ تعارف کتب چند متفرق امور کا ذکر کرنے کے بعد حضور نے تحصیل علم کی اہمیت پر احباب جماعت کو ایک بصیرت افروز خطاب سے نوازا۔ حصول علم کی تلقین کرتے ہوئے آپ نے فرمایا: سو میں آج پھر کہتا ہوں اور پھر بھی جتنی دفعہ موقع ملے گا یہی کہوں گا کہ علم سیکھو۔ یہ بہت اعلیٰ درجہ کی چیز ہے اور ایسی بابرکت اور مفید ہے کہ اس سے کبھی بھی نقصان نہیں پہنچ سکتا۔ علم خواہ کسی چیز کا ہو تیرا نیز فرمایا: نہیں ہو سکتا؟۔ آنحضرت التلال فرماتے ہیں کہ تمام مسلمانوں کا فرض ہے کہ دین کا علم سیکھیں خواہ وہ بڑے ہوں یا چھوٹے جوان ہوں یا بوڑھے، مرد ہوں یا عورتیں، لڑکے ہوں یا لڑکیاں۔ کیونکہ جب تک انہیں یہ حاصل نہ ہوگا خدا کے احکام پر عمل نہ کر سکیں گے اور جب عمل نہ کر سکیں گے تو نجات نہ ہو سکے گی۔ پھر جب رسول کریم نے اس کو فرض قرار دے دیا ہے تو اس کو حاصل کرنے والا اسی طرح کا گنہگار ہے جس طرح نماز نہ پڑھنے والا روزہ نہ رکھنے والا زکوۃ نہ دینے والا خدا تعالیٰ قیامت جنت روزخ، تقدیر کا انکار کرنے والا۔ پس ہر مومن کیلئے اس کا سیکھنا ضروری ہے۔ اور رسول کریم الہی اس کو فرض قرار نہیں دیتے بلکہ خدا تعالیٰ بھی فرماتا ہے إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمُوا (فاطر:۲۹)- کہ خدا سے اس کے عالم بندے ہی ڈرتے ہیں۔ ان عالموں سے مراد علم انگریزی یا تاریخ یا جغرافیہ یا حساب کے عالم مراد نہیں بلکہ دینی علماء مراد ہیں کہ انہیں میں خدا تعالی کی خشیت ہوتی ہے۔ اور چونکہ خشیت اللہ کا ہونا ہر ایک مومن کیلئے ضروری ہے اس لئے ثابت ہو گیا کہ دین کا علم حاصل کرنا بھی ہر ایک کیلئے ضروری اور فرض ہے"۔ تقریر کے آخر میں حضور نے احباب جماعت کی راہنمائی کیلئے حصول علم کے سات طریق بیان فرمائے ہیں جن پر عمل پیرا ہو کر انسان آسانی سے علم حاصل کر سکتا ہے۔ - حقيقة الرويا جلسہ سالانہ ۱۹۱۷ء میں حضور نے ۲۸ - دسمبر کو مندرجہ بالا موضوع پر سیر حاصل خطاب فرمایا