انوارالعلوم (جلد 4) — Page 79
انوار العلوم جلد ۴ 29 قادیان کے غیر از جماعت احباب کے نام پیغام لوگ یہاں چل کر آئیں گے اور اب وہی ہو رہا ہے۔ آپ آپ نے نے کہا کہا تھا تھا ۔ قادیان بہت ترقی کرے گا اور اب ویسا ہی ہو رہا ہے۔ باہر کے دشمنوں کو جانے دو۔ قادیان کے دشمنوں کا دیکھو کیا حال ہوا جب مرزا صاحب علیہ الصلوة والسلام نے دعوی کیا ہے تو کس طرح آپ کے مخالفوں نے شور مچایا ۔ ہر قسم کے کام کرنے والوں کو کاموں سے روکا روکا گیا۔ جو مہمان آتے تھے ان کو دق کیا گیا مسجد کا راستہ بند کیا گیا بے وجہ دنگا اور فساد کیا گیا مگر اس کا نتیجہ کیا ہوا ۔ بتاؤ تو اس بھرے ہوئے گھر کا اب کیا حال ہے جس میں بیسیوں آدمی تھے اب اس کا ایک یتیم بچہ ہے اور وہ بھی احمدی ہو گیا ہے۔ اس گھر کی رونق اور حکومت کو دیکھو اور پھر حضرت مسیح موعود کے مقابلہ کے بعد اس کی حالت کو کو دیکھو۔ اسی طرح آریوں ں نے جب بلاوجہ آپ کا مقابلہ کیا اور آپ نے ان کے متعلق قبل از وقت لکھ دیا کہ یہ جلد ہلاک ہو جائیں گے تو کس طرح تڑپا تڑپا کر طاعون نے ان مخالف گھروں کا صفایا ایک سال میں کر دیا ۔ کیا ہم نے اپنے ہاتھ سے ان مخالفوں کو مارا تھا اس نے ان کو ہلاک کیا جو ہمیشہ سے راست بازوں اور بچے بندوں کے دشمنوں کو ہلاک کرتا آیا ہے۔ آپ لوگوں کو چاہئے تھا کہ ان واقعات سے عبرت پکڑتے لیکن آپ نے عبرت نہ پکڑی اور گستاخی میں کوئی انتہاء نہ رکھی۔ اب اس کے بد نتائج بھگتنے کے لئے تیار رہیں کیونکہ انسان کے عذاب سے انسان بچ سکتا ہے لیکن خدا کے عذاب سے نہیں بچ سکتا۔ ہمیں جوش دکھانے کی ضرورت نہیں۔ اگر آپ لوگ تو بہ نہ کریں گے تو اللہ تعالی خود غیرت دکھائے گا اور ایسے رنگ میں دکھائے گا کہ دشمنوں کا انجام مدتوں لوگوں کے لئے عبرت کا ذریعہ ہو گا۔ خدا کے پیاروں کا مقابلہ آسان نہیں۔ نقل کرنی آسان ہے مگر اصل کی مشابہت حاصل کرنی مشکل۔ میں نے سنا ہے کہ آپ لوگوں کو خوش کرنے کے لئے ایک مولوی صاحب نے بیان کیا ہے کہ اگر کوئی شخص میرے پاس کچھ مدت رہے تو بذریعہ رویا اور کشف اس کو معلوم کروا دوں گا کہ مرزا صاحب جھوٹے ہیں۔ ان مولوی صاحب نے مسیح موعود کی نقل کی ہے کیونکہ آپ نے یہ اعلان کیا تھا کہ اگر کوئی شخص چالیس دن میرے پاس آکر رہے تو اسے میری صداقت میں کوئی نشان دیا جارے گا۔ مگر خدا کی باتوں کی نقل کرنی آسان نہیں اگر ان مولوی صاحب میں اس قدر طاقت ہے کہ وہ دوسروں کو رویا اور کشف کراسکتے ہیں تو ان کو خود رویا اور کشوف ضرور ہوتے ہوں گے ۔ وہ پہلے خود تو وہ کشوف اور رویا شائع کریں جن میں ان کو بتایا گیا ہو کہ مرزا صاحب جھوٹے تھے مگر ساتھ یہ بھی شرط ہو گی کہ قسم کھا کر یہ بھی اعلان کریں کہ ان کے کشوف و رویا نہ شیطانی ہیں