انوارالعلوم (جلد 4) — Page 543
۵۴۳ تقدیرانی اس آیت کے سوا یہ لوگ کچھ اور آیات بھی پیش کرتے دوسری آیت کا صحیح مطلب ہیں جن میں سے ایک دو موٹی موٹی آیتوں کا ذکر میں اس وقت کر دیتا ہوں۔ایک یہ آیت پیش کی جاتی ہے۔لَّنْ يُصِيبَنَا إِلَّا مَا كَتَبَ اللهُ لَنَا : هُوَ مَوْلنَا ، وَعَلَى اللهِ فَلْيَتَوَ كُل الْمُؤْمِنُونَ (التوبه : (۵) کہ ہمیں نہیں پہنچے گا کچھ بھی مگر وہی جو اللہ نے لکھ چھوڑا ہے اللہ تعالی ہی ہمارا مولی ہے اور اسی پر توکل کرتے ہیں مؤمن۔وہ کہتے ہیں کہ جب خدا کہتا ہے کہ انسان کو وہی ملتا ہے جو پہلے اس کے لئے لکھ چھوڑا گیا۔ہے۔اب کھانا دانہ کپڑا لتا روپیہ پیسہ جس قدر خدا نے لکھ چھوڑا ہے کہ اتنا اتنا فلاں کو ملے اس سے زیادہ یا کم نہیں ہو سکتا۔یا یہ کہ فلاں فلاں کو فلاں طریق سے قتل کرے۔فلاں فلاں جگہ فلاں کے ہاتھ سے پھانسی پائے۔تو پھر انسان کا کیا اختیار؟ حالانکہ بات بالکل اور ہے۔اس جگہ کفار کے ساتھ جنگ کا ذکر خدا تعالیٰ فرماتا ہے اور کہتا ہے کہ جب مسلمانوں کو جنگ سے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو منافق لوگ خوش ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے اپنا بندو بست پہلے سے کر رکھا تھا اس لئے ہم اس تکلیف سے بچ گئے۔مسلمان بیوقوف ہیں کہ اپنے سے طاقتور اور زبر دست لوگوں سے مقابلہ کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔نادان تم ہو اور اندھے تم ہو۔تم سمجھتے ہو کہ مسلمان ہار جائیں گے اور کفار ان پر غلبہ پالیں گے۔لیکن یہ نہیں ہو گا۔کیوں ؟ اس لئے کہ خدا نے اپنی سنت مقررہ کے ماتحت کہ اس کے رسول ہمیشہ غالب رہیں گے مقدر کر چھوڑا ہے کہ مسلمان جیت جائیں گے۔پس یہاں ہر ایک عمل خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت سرزد ہونے کا ذکر نہیں بلکہ صرف اس امر کے مقدر ہونے کا ذکر ہے کہ مؤمن کفار پر غلبہ پائیں گے اور جیت جائیں گے۔نہ یہ کہ ڈاکہ مارنا، چوری کرنا، ٹھگی کرنا جھوٹ بولنا خدا نے لکھ دیا ہے۔چنانچہ دوسری جگہ خدا تعالیٰ کی فرماتا ہے۔كَتَبَ اللهُ لَا غَلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِى (المجادلة: ۲۲) میں نے مقدر کر دیا ہے کہ میں اور میرے رسول اپنے دشمنوں پر غالب رہیں۔پس اس آیت میں کتب سے مراد انسانی اعمال نہیں بلکہ رسول اور مؤمنوں کی فتح مراد ہے۔-