انوارالعلوم (جلد 4) — Page 535
انوار العلوم جلد ۴ ۵۳۵ تقدیر الهی ہمارا مال سو تمہارا مال اور اس کا یہ قطعا خیال نہ تھا کہ میرا مال یہ لے بھی لے۔اسی طرح بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم مانتے ہیں ایک ہستی ہے ایک طاقت ہے ایک روح ہے مگر ایسا خدا جو ہمیں حکم دے کہ اس طرح کرو اور اس طرح نہ کرو اس کے ہم قائل نہیں ہیں۔اس قسم کے دہریوں کے عقیدے موجود ہیں۔اگر اسی طرح کا خدا کے متعلق کسی کا ایمان ہو تو یہ تو دہریوں کا بھی ہوتا ہے اور یہ کافی نہیں ہوتا۔پس خدا تعالیٰ پر ایمان لانے کے یہ معنی نہیں ہیں کہ ایک ذات ہے بلکہ یہ بھی ہیں کہ اس کی صفات کو بھی مانا جائے۔پھر یہی نہیں کہ خدا کی صفات مان لے بلکہ یہ بھی ہے کہ ان کا ظہور مانے اور یہی قدر ہے۔گویا خدا تعالی پر ایمان لانے کے لئے یہ ضروری ہے کہ اول ذات اللہ پر ایمان لائے۔دوسرے صفات اللہ پر ایمان لائے۔تیسرے صفات کے ظہور پر ایمان لائے۔اس تیسری شق کا رسول کریم ﷺ نے قدر نام رکھ کر علیحدہ بیان کر دیا ہے اور بتا دیا ہے کہ خدا تعالیٰ کی جن صفات کے ظہور کا تعلق بندوں سے ہے اس کا نام قدر ہے۔ادھر ایمان بالقدر ایسی ضروری چیز ہے کہ رسول قضاء و قدر کے متعلق فکر اور تنازع کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ کوئی مؤمن ہی نہیں ہو سکتا جب تک قدر پر ایمان نہ لائے۔اور یہ محض زور دینے کے لئے نہیں فرمایا بلکہ قرآن کریم فرماتا ہے کہ صفات الہیہ پر ایمان لانا جزو ایمان ہے۔مگر اس کے ساتھ ہی ایک نهایت سخت بات بھی لگی ہوئی ہے اور وہ یہ کہ رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ ایمان بالقدر ایسی مشکل چیز ہے کہ اس کے متعلق فکر اور تنازع کرنا انسان کو ہلاک کر دیتا ہے۔چنانچہ حضرت ابو ہریرہ کی روایت ہے کہ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَتَنَازَعُ فِي الْقَدْرِ - فَغَضِبَ حَتَّى اِحْمَرَّ وَجْهُهُ حَتَّى كَأَنَّمَا فُقِنَ فِي وَجْنَتَيْهِ الرُّمَّانُ فَقَالَ اَبِهَذَا أُمِرْتُمْ أَمْ بِهَذَا أرْسِلْتُ إِلَيْكُمْ إِنَّمَا مَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ حِيْنَ تَنَازَعُوا فِي هَذَا الْأَمْرِ عَزَمْتُ عَلَيْكُمْ عَزَمْتُ عَلَيْكُمْ اَلا تَنَازَعُوا فِيهِ ( ترندی ابواب القدر باب ما جاء في التشديد في الخوض في القدر) ہم لوگ قضاء و قدر کے مسئلہ کے متعلق بیٹھے ہوئے جھگڑ رہے تھے کہ رسول کریم باہر تشریف لائے ہماری باتوں کو سن کر آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا۔اور یوں معلوم ہو تا تھا کہ گویا