انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 521 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 521

العلوم جلد ۵۲۱ خطاب جلسہ سالانہ ۲۷ دسمبر ۹۱۹ خیر امت ہو کیوں؟ اس لئے کہ تم لوگوں کے فائدہ کے لئے نکالے گئے ہو۔یعنی تمہارا یہی کام نہیں کہ اپنے آپ کو نیک اور خدا کے عبد بناؤ بلکہ یہ بھی ہے کہ اوروں کو بھی ایسا ہی بنانے کی کوشش کرو۔عام طور پر اس آیت کے یہ معنی کئے جاتے ہیں کہ مسلمانوں کو خدا تعالیٰ نے اس لئے خیر امت کہا ہے کہ وہ دوسروں میں تبلیغ دین کرتے ہیں۔مگر بات یہ نہیں بلکہ خیرامت للناس کی وجہ سے کہا گیا ہے یعنی تم سے پہلے تو لوگوں کے لئے محدود حلقے تبلیغ کے ہوتے تھے مگر تم کو ساری دنیا کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔ورنہ تبلیغ تو پہلے نبیوں کے متبع بھی کرتے تھے۔ان کو خیر امت کیوں نہ کہا گیا۔اسی لئے کہ ان کا کام زیادہ وسیع اور ان کی ذمہ داری اتنی بڑی نہ تھی۔تو یہ دوسرا فرض ہے جو اسلام نے خدا تعالیٰ کا عبد بننے کے لئے قرار دیا ہے۔بے شک ہماری جماعت اس فرض کی ادائیگی کے لئے کوشش کرتی ہے۔لیکن جس قدر کوشش کی جاتی ہے اس سے ہزاروں اور لاکھوں درجے زیادہ کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔آگے اس فرض کو ادا کرنے کے بھی دو طریق ہیں۔ایک تو یہ ہے امر بالمعروف کی تلقین کہ اپنے یعنی مسیح موعود کے ماننے والے لوگوں کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی جائے۔ایک احمدی دوسرے احمدی کو سمجھائے نصیحت اور وعظ کرے۔یہ بھی بڑا بھاری فرض ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔انْصُرُ أَخَاكَ ظَالِمًا او مظلوما - (بخاری کتاب النظالم باب اعن اخاك ظالما او مظلوما، کہ ہر ایک مسلمان کو چاہئے کہ اپنے بھائی کی مدد کرے خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم۔یہ سن کر صحابہ حیران ہو گئے۔اور انہیں حیران ہونا بھی چاہئے تھا۔کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جیسا عادل اور منصف انسان کہ جس نے دنیا میں عدل و انصاف کو قائم کیا۔اس کے مونہہ سے ان الفاظ کا نکلنا کہ اپنے ظالم بھائی کی بھی مدد کرو کچھ کم قابل تعجب نہ تھا۔پس ایک صحابی نے دریافت کیا یا رسول الله " مظلوم بھائی کی تو مدد ہوئی۔لیکن ظالم کی کیا مدد کی جائے۔آپ نے فرمایا ظالم کی مدد یہ ہے۔کہ اس کا ہاتھ ظلم کرنے سے روک دیا جائے۔مثلاً اگر ایک شخص ڈاکہ مارنے کا ارادہ رکھتا ہے۔اور دوسرا اسے روک دے تو یہ اس کی مدد ہو گی۔پس اس فرض کو ادا کرنا بھی نہایت ضروری ہے۔اگر آپس میں حق بیان کیا جائے۔اور ایک دوسرے کو وعظ نصیحت کی جائے تو جماعت کبھی تنزل کی طرف نہیں جاسکتی حضرت ابن عباس سورہ اعراف کی آیت وَإِذْ قَالَتْ أُمَّةٌ مِّنْهُمْ لِمَ تَعِظُونَ قَوْمَا ء الله مُهلكهم أو