انوارالعلوم (جلد 4) — Page 514
انوار العلوم جلد ۴ ۵۱۴ خطاب جلسہ سالانہ کے ۱۰۲ نمبر ۱۹۱۹ء میری چارپائی والدہ کے گھر پہنچادی جائے تاکہ میں ایک مشترک گھر میں رہوں۔اور کسی بیوی کو شکایت نہ ہو کہ دوسری کے ہاں رہتا ہوں۔رسول کریم نے بیویوں کے حقوق کے متعلق خاص تاکید فرمائی ہے۔اور اسی معاملہ میں اس قدر تشدد کیا ہے کہ جب آپ مرض الموت میں تھے اور نماز کے لئے بھی باہر نہیں آسکتے تھے۔تو اپنی سب بیویوں کو جمع کر کے کہا کہ اگر تمہاری اجازت ہو تو میں کسی ایک گھر میں رہوں۔یہ تھی آپ کی احتیاط۔اس کو نادان اور اندھی دنیا شہوت رانی کہتی ہے۔چنانچہ سب نے اجازت دی۔(بخاری کتاب المغازی، باب مرض النبي ووفاته وقول الله تعالى - انک میت و انهم میتون) اور خدا نے چاہا کہ وہ آپس میں سے اس کو چینیں جس کو خدا نے سب پر فضیلت دی تھی اور وہ عائشہ تھیں۔حضرت عائشہ کے گھر جانے کے تین چار روز بعد آپ نے فہرست ہو گئے۔بیویوں کے متعلق یہ طرز عمل تھا اس انسان کا جس پر اعتراض کئے جاتے ہیں۔اور مسلمانوں کی طرف سے کرائے جاتے ہیں۔کیونکہ مسلمانوں میں سے آدھا حصہ عورتیں ہیں جو کہتی ہیں کہ ایک سے زیادہ بیویوں میں عدل نہیں کیا جاسکتا۔اور صرف عورتیں ہی نہیں کہتیں مرد بھی کہتے ہیں کہ ایسا نہیں ہو سکتا۔کیونکہ وہ دیکھتے ہیں کہ جو لوگ مسلمانوں میں سے ایک سے زیادہ عورتیں کرتے ہیں وہ ان میں عدل نہیں کرتے۔پس سوچے اور غور کرے وہ مسلمان اور سوچے اور غور کرے وہ احمدی جو عیسائیوں کو کہتا ہے کہ تمہارے مذہب میں ایسی تعلیم پائی جاتی ہے جس پر عمل نہیں کیا جاسکتا۔لیکن وہ خود اپنے عمل سے بتاتا ہے کہ اسلام میں بھی ایسی تعلیم ہے جس پر عمل نہیں ہو سکتا۔بعض نادان و رسول کریم پر ایک بیوی کے متعلق اعتراض اور اس کا جواب بعض حدیثوں کی بناء پر کہہ دیا کرتے ہیں کہ رسول کریم نے بھی ایک بیوی کے گھر اس لئے جانا چھوڑ دیا تھا کہ وہ بوڑھی ہو گئی تھیں۔حالانکہ حدیثوں سے یہی ثابت ہے کہ اس عورت نے خود رسول کریم کو کہا تھا کہ میں اپنی باری عائشہ کو دیتی ہوں۔(بخارى كتاب النكاح باب المرءة تهب يومها من زوجها نضرتها وكيف يقسم ذلک) بے شک روایت کیا جاتا ہے کہ اس بیوی کے دل میں ڈر را ہو گیا تھا کہ ایسا نہ ہو کہ رسول کریم اللہ مجھے بوجہ بڑھاپے کے طلاق دے دیں۔اور ممکن ہے یہ بات درست ہو۔عورتیں بعض دفعہ اپنی کمزوری کے باعث اس قسم کے وہموں پیدا