انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 513 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 513

وم جلد ۴ ۵۱۳ خطاب جلسہ سالانہ ۲۷ - دسمبر ۱۹۱۹ء مگر میں دیکھتا ہوں کہ مسلمان ہی اس تعدد ازدواج کے متعلق مسلمانوں کا بُرا نمونہ مسئلہ میں برا نمونہ دکھا کر دوسروں کے لئے ٹھوکر کا موجب بن رہے ہیں۔عیسائیوں کی عورتیں آکر مسلمان عورتوں کو کہتی ہیں کہ مسلمان دوسری شادی کر کے عورتوں پر بڑا ظلم کرتے ہیں۔اور سو میں سے ننانوے مسلمان عورتیں ایسی ہیں جو کہتی ہیں کہ ہاں واقع میں ہم پر یہ بہت بڑا ظلم ہے اور یہ کہہ کر وہ کافر ہو جاتی ہیں۔کیونکہ شریعت اسلام پر ظلم کا الزام لگاتی ہیں۔مگر میں پوچھتا ہوں اس کا ذمہ دار کون ہے ؟ وہی جن کی وجہ سے عورتوں کو اس اعتراض کا موقع ملا۔اور وہی جنہوں نے اپنی نفس پرستی کی وجہ سے دشمنوں کو محمد ﷺ پر اعتراض کا موقع دیا۔اور اسلام پر ہنسی اڑوائی۔یہیں وجہ ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے جو شخص دو بیویاں کر کے ان سے مساوی سلوک نہیں کرتا۔قیامت کے دن وہ ایسے حال میں اٹھے گا کہ اس کا آدھا دھڑ ہو گا اور آدھا نہیں۔اتر مذی ابواب النکاح باب ماجاء في التسوية بين الضرائر، اور کون کہہ سکتا ہے کہ وہ آدھا دھڑ کون سا ہو گا؟ وہ جس میں دل ہے یا وہ جس میں دل نہیں۔پس یہ وہ حکم ہے۔جس پر مخالفین کی طرف سے بڑے شور سے اعتراض کئے جاتے ہیں۔اور جس کے متعلق مسلمان اپنے عمل سے مخالفین کو اعتراض کرنے کا موقع دے رہے ہیں۔میرا دل نفس پاک رکھنے والے اپنے عمل سے مخالفین کا اعتراض دور کریں چاہتا ہے کہ ہماری جماعت کے جو لوگ نفس پاک رکھتے ہیں اور اسلام کو اپنی شہوت رانی پر قربان کرنے والے نہیں وہ اس حکم پر عمل کر کے اسلام پر سے اس اعتراض کو دور کریں۔اور عملاً اس کا جھوٹا ہونا ثابت کر دیں۔ابتداء بیشک ان کے اس فعل پر بھی اعتراض ہوں گے۔لیکن آہستہ آہستہ جب لوگ اپنی آنکھوں سے اس بات کو دیکھیں گے کہ یہ فعل شہوت رانی نہیں ہے بلکہ اس امر پر کوئی شخص قادر بھی نہیں ہو سکتا جب تک کہ شہوت کو دبانے پر قادر نہ ہو تو خود بخود ان کی آنکھیں کھل جاویں گی اور اپنی غلطی کا اقرار کرنے لگیں گے۔میں آپ لوگوں کو اپنا حال سناتا ہوں بیویوں سے مساوی سلوک کرنے میں احتیاط کہ میں اس قدر احتیاط سے کام لیتا ہوں۔پچھلے دنوں جب میں بیمار ہوا اور میں نے دیکھا ادھر ادھر آجا نہیں سکتا تو میں نے کہا کہ