انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 512 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 512

خطاب جلسہ سالانہ ۷ ۲- د نمبر ۶۱۹۱۹ ۵۱۲ r ان معاملات میں سے ایک خاص معاملہ تعدد ازدواج کا ہے۔میں ہی تعدد ازدواج کا مسئلہ شاید وہ شخص ہوں جو قرآن کریم احادیث اور حضرت مسیح موعود کی تحریروں سے استدلال کر کے احمد یہ سلسلہ میں سے اس کی تائید میں زور دیتا رہا ہوں۔لیکن اس وقت میں اس کا ایک دوسرا پہلو دکھانا چاہتا ہوں۔میں اس پر اس لئے زور دیا کرتا ہوں کہ رسول کریم ال پر مخالفین اعتراض کرتے ہیں کہ آپ نے نعوذ باللہ شہوت رانی کے لئے ایک سے زیادہ نکاح کئے تھے۔اب مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ دنیا کو دکھلا دیں کہ رسول کریم کی یہ شہوت رانی نہیں تھی بلکہ بہت بڑی قربانی تھی۔جب کوئی ایک سے زیادہ بیویاں کرتا ہے تب اس کو پتہ لگتا ہے کہ یہ کتنی بڑی مشکل بات ہے۔رسول کریم ﷺ پر تو یہ اعتراض کر دیا گیا ہے کہ آپ نے نعوذ باللہ شہوت رانی کے لئے زیادہ بیویاں کیں۔مگر میں تجربہ کے بعد جانتا ہوں کہ دو عورتوں کے ساتھ ہی مساوی معاملہ کرنے میں کس قدر نفس کی قربانی کرنی پڑتی ہے۔اور یہ رسول کریم ﷺ ہی کی شان تھی کہ آپ نے نو ۹ کے ساتھ مساوی معاملہ کیا۔شہوت رانی تو یہ ہے کہ ایک کو چھوڑ کر دوسری عورت کو اپنے پاس رکھا جائے نہ یہ کہ ایک شخص جو سب کو مساوی حقوق دیتا ہے ، مساوی سلوک کرتا ہے، اسے شہوت ران کہا جائے۔کیونکہ یہ کھلی بات ہے کہ جب ایک انسان کی کئی بیویاں ہوں تو ان میں سے کسی ایک کے ساتھ دوسری بیویوں کی نسبت زیادہ محبت ہو گی۔اور بعض دفعہ ہو سکتا ہے کہ کسی ایک عورت سے کسی سبب سے نفرت بھی ہو۔مگر باوجود اس کے جو شخص اپنی سب بیویوں سے یکساں سلوک کرتا ہے ایسے شخص کو کس طرح شہوت ران کہا جا سکتا ہے؟ کیا نفس کی قربانی کے معنی شہوت رانی ہوتے ہیں اگر نہیں تو ایک سے زیادہ بیویوں سے مساوی سلوک کرنا بہت بڑی نفس کی قربانی ہے۔اور جو شخص مذہبی ، قومی یا ملی فوائد کو مد نظر رکھ کر یہ بوجھ اٹھاتا ہے وہ ندائے قوم سمجھا جائے گا نہ کہ شہوت ران۔اور جو شخص اپنی ذاتی ضروریات کو مد نظر رکھ کر ایک سے زیادہ نکاح کرتا ہے لیکن سب بیویوں سے برابر کا سلوک کرتا ہے وہ بھی شہوت ران نہیں بلکہ اپنے نفس پر قابو رکھنے والا انسان کہلائے گا۔غرض میں نے جو ایک سے زیادہ بیویاں کرنے پر زور دیا ہے تو صرف اس غرض سے کہ اس سے اسلام کے اس حکم کو صاف کیا جائے اور رسول کریم ﷺ پر سے اعتراض مٹایا جاوے۔وَاللَّهُ عَلَى مَا أَقُولُ شَهِيدٌ