انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 503 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 503

دم جلد ۴ ٥٠٣ خطاب جلسہ سالانہ کے ۲ دسمبر ۱۹۱۹ تو سے انسان عبد بن سکتا ہے۔بغیر اپنے نفس کے مار دینے کے کوئی شخص عبد نہیں بن سکتا۔پہلے اپنے آپ کو مٹا دے تب غلام بنے۔کیوں کہ غلام کے لئے شرط ہے کہ کوئی " میں " اس کی اپنی نہ ہو سب کچھ اس کے مالک کا ہو۔پس جب تک انانیت بالکل نہ مٹ انانیت مٹائے بغیر انسان عبد نہیں بن سکتا جائے اس وقت تک انسان عبد نہیں بن سکتا۔اور جب تک عہد نہ بنے اس وقت تک اسے خدا تعالیٰ مل نہیں سکتا۔لوگ انانیت کے معنی تکبر اور غرور وغیرہ کے کرتے ہیں جو ٹھیک ہیں مگر ساتھ ہی یاد رکھنا چاہئے کہ یہ لفظ انا سے نکلا ہے اور جب تک انا " میں " نہ مٹ جائے خدا تعالیٰ کی حقیقت نہیں معلوم ہو سکتی۔کسی صوفی نے کہا ہے کہ "میں" کے گلے پر چھری خدا تعالیٰ کو پانے کے لئے نہایت ضروری ہے۔انسان اپنے نفس پر چھری پھیر دے اور اس طرح چھری پھیرے جس طرح رسول کریم آپ کے صحابہ اور تابعین نے پھیری۔انہوں نے اپنے نفسوں پر ایسی چھری پھیری کہ اس کا ذکر پڑھ کر حیرت آتی ہے۔انہوں نے اپنے نفسوں کو مار دیا۔مثال کے طور پر میں ایک صحابی کا ذکر کرتا ہوں۔ایک دفعہ مسلمان عیسائیوں کے مقابلہ پر نکلے۔اور ایک عیسائی نے کئی ایک بہادر مسلمانوں کو مار دیا۔اور اس نے مطالبہ کیا کہ کوئی بڑا بہادر مسلمانوں میں سے میرے مقابلہ پر آئے۔اس پر ایک صحابی نکلے۔لیکن میدان میں جا کر پھر واپس اپنے خیمہ کی طرف بھاگ آئے۔ضرار ان کا نام تھا اور وہ بہت بڑے بہادر سپاہی تھے۔ان کے واپس بھاگ آنے سے مسلمانوں کو بہت شرمندگی ہوئی اور انہوں نے سمجھا کہ ہماری بڑی ذلت ہوتی ہے۔لیکن تھوڑی دیر ہی بعد پھر جب وہ اپنے خیمہ سے نکلے اور مقابلہ کے لئے چلے تو مسلمانوں نے پوچھا آپ پہلے کیوں واپس چلے آئے تھے۔انہوں نے کہا بات یہ تھی کہ پہلے جب میں لڑائی کے لئے جایا کرتا تھا تو زرہ نہیں پہنی ہوتی تھی لیکن آج اتفاق سے دو زر میں پہنی ہوئی تھیں۔جب میں لڑائی کے لئے نکلا تو مجھے خیال آیا کہ عیسائی حریف اپنے آپ کو بڑا بہادر سمجھتا ہے اور بڑا دعوی کر رہا ہے۔کیا میں نے اس کے خوف سے تو دو زرہیں نہیں پہنی ہو ئیں کہ مجھے مار نہ دے۔اس خیال سے ڈر کر اگر میں مارا گیا تو مشرک مروں گا میں واپس بھاگا اور اب میں زرہیں اتار کر اس کے مقابلہ کے لئے چلا ہوں۔یہ کہہ کر وہ چل پڑا اور جا کر عیسائی کو مار دیا۔(فتوح الشام مترجم حکیم بشیر احمد انصاری