انوارالعلوم (جلد 4) — Page 416
دم جلد ۴ خطاب جلسہ سالانہ ۱۷ مارچ ۱۹۱۹ء حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دُکھ دیا گیا۔مگر میں امید کرتا ہوں کہ مسیح موعود کے زمانہ میں اللہ تعالٰی اس کا بھی ازالہ کرے گا۔اور ان کے خلفاء کے دشمن ناکام رہیں گے۔کیونکہ یہ وقت بدلہ لینے کا ہے۔اور خدا چاہتا ہے کہ اس کے پہلے بندے جن کو نقصان پہنچایا گیا ان کے بدلے لئے جائیں۔میں ماموریت یا مجددیت کا مدعی نہیں ہوں۔اور نہ خاص الہام پا کر کھڑا ہوں۔میں تو اس خلافت کا مدعی ہوں جس کا ذکر اس آیت میں ہے۔کہ وَعَدَ اللَّهُ الَّذِيْنَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الطَّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمُ (النور : ۵۶) پس میں اپنے الہام پر کھڑے ہونے کا دعویدار نہیں۔بلکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے الہام پر کھڑا ہونے کا مدعی ہوں۔حضرت مسیح موعود نے مجھے یوسف قرار دیا ہے۔میں کہتا ہوں مجھے یہ نام دینے کی کیا ضرورت تھی۔یہی کہ پہلے یوسف کی جو ہتک کی گئی ہے اس کا میرے ذریعہ ازالہ کرایا جاوے۔پس وہ تو ایسا یوسف تھا جسے بھائیوں نے گھر سے نکالا تھا۔مگر یہ ایسا یوسف ہے جو اپنے دشمن بھائیوں کو گھر سے نکال دے گا۔اس یوسف کو تو بھائیوں نے کنعان سے نکالا تھا۔مگر اس یوسف نے اپنے دشمن بھائیوں کو قادیان سے نکال دیا۔ہم نے اس یوسف کا بدلہ لے لیا ہے اور اس یوسف کی ہتک کا ازالہ کر دیا ہے۔پس میرا مقابلہ آسان نہیں نہ اس لئے کہ میں کسی بات کا دعویدار ہوں۔میں تو جانتا ہوں کہ میں جاہل ہوں۔کوئی ڈگری حاصل نہیں کی اور نہ کوئی سند لی نہ انگریزی مدارس کا ڈگری یافتہ ہوں اور نہ عربی مدارس کا سند یافتہ ہوں۔قرآن اور بخاری اور چند کتب خلیفہ اول نے پڑھائی تھیں۔اور دروس النحویہ کے حصے مولوی سید سرور شاہ صاحب سے پڑھے تھے۔اس کے سوا اور کسی جگہ عربی نہیں پڑھی۔مگر کسی علم کے جاننے والے سے بھی جب کوئی دینی گفتگو ہوئی ہے تو خدا نے مجھے کامیاب کیا ہے۔میں جانتا ہوں کہ میں کچھ نہیں جانتا۔مگر جس مقام پر خدا تعالیٰ نے مجھے کھڑا کیا ہے خدا تعالیٰ کو اس کی عزت منظور ہے۔اور چونکہ میں اسی کو منواتا ہوں اس لئے وہ میری تائید کرتا ہے۔اب اگر مجھے اس منصب اور مقام کی عزت کا خیال نہ ہو تا تو اپنی ہتک اسی طرح برداشت کر لیتا جس طرح اس منصب پر کھڑا ہونے سے پہلے کر لیا کرتا تھا۔اس وقت میری ذات پر اعتراض کئے جاتے۔میرے خلاف کوششیں کی جاتیں۔لیکن میں نے کبھی ان کے ازالہ کی کوشش نہ کی۔کلام محمود میں کئی شعر واقعات کے متعلق ہیں۔چنانچہ جب ایک دفعہ حضرت خلیفہ اول کو بڑے منصوبے بنا کر ان لوگوں نے مجھ سے ناراض کرانا چاہا تو اس سے مجھے بہت