انوارالعلوم (جلد 4) — Page 400
خطاب جلسہ سالانہ کے ا تو ہمارے علماء کا فرض تھا کہ اس کی تائید میں نئے نئے دلائل مہیا کرتے تاکہ جس طرح اچانک حملہ سے دشمن کے لشکر کے پاؤں اکھڑ جاتے ہیں۔اسی طرح اچانک نئے نئے دلائل کے حملہ سے ہمارے مخالفین بھی حیران و ششدر رہتے۔دیکھو جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة و السلام نے اچانک کئی ایک آیات وفات مسیح کے ثبوت میں پیش کیں تو مخالفین میں ایک کھلیلی پڑ گئی اور وہ گھبرا گئے اور کوئی جواب نہ دے سکے جس سے سمجھدار لوگوں پر بہت اچھا اثر ہوا۔اور بہت سوں نے حق کو قبول کر لیا۔لیکن اب دلائل کا وہ اثر نہیں رہا۔وجہ یہ کہ مخالف مولویوں نے بھی ان کے جواب خواہ جھوٹے ہی سہی مگر تیار کر لئے ہیں۔اور وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے پاس بھی کچھ نہ کچھ جواب ہے۔اور چونکہ عام طور پر دنیا میں یہ بات پائی جاتی ہے کہ اپنے لوگوں کی ایک حد تک پاسداری ضرور کرتے ہیں۔اس لئے غیر احمدی مولوی جب ہمارے مقابلہ میں کچھ نہ کچھ جواب دیتے ہیں تو عوام ان کی ہاں میں ہاں ملا دیتے ہیں۔لیکن اگر نئے سے نئے دلائل ہماری طرف سے پیش کئے جائیں تو نہ مخالفین ان کے جواب دے سکیں اور نہ دوسرے لوگ ان کی پاسداری کر سکیں۔مگر کچھ عرصہ سے یہ نقص پیدا ہو گیا ہے کہ ہماری طرف سے اس امر کی کوشش نہیں کی گئی کہ تحقیق کر کے اپنے دعاوی کے نئے دلائل اور ثبوت مہیا کئے جاویں۔اور اس وجہ سے اس تیزی کے ساتھ ہمیں کامیابی نہیں ہو رہی جیسی کہ ہونی چاہئے۔کیونکہ ہمارے دلائل کا ذخیرہ پرانا ہے اس لئے گھبراتے ہیں۔اب یہ اس صیغے کا فرض ہو گا کہ نئے نئے ولا ئل اور ثبوت نکالتا رہے اور اس تیزی اور چستی سے نکالتا رہے کہ دشمن ابھی پہلے پیش کردہ دلائل کے جواب سے عہدہ برآنہ ہوا ہو کہ اور نئے پیش کر دئیے جائیں۔یہی ایک ایسا ذریعہ ہے جس سے ہم بڑے سے بڑے دشمنوں کو ناکام کر سکتے ہیں۔اس کے متعلق یہ مت سمجھو کہ ہمیں نئے دلائل نہیں مل سکیں گے۔دیکھو ایک دوائی جو ہزاروں سال سے استعمال ہوتی چلی آئی ہے۔دن بدن اس کے نئے نئے فوائد نکلتے رہتے ہیں اسی طرح باوجود اس کے کہ قرآن کو تیرہ سو سال سے بھی زیادہ ہو گئے ہیں۔لیکن اس میں سے نئے نئے معارف نکلتے ہی چلے آتے ہیں اور ختم ہونے میں نہیں آتے۔وجہ یہ ہے کہ جس طرح دنیاوی چیزوں کے بعض خزانے آئے دن ظاہر ہوتے رہتے ہیں۔اسی طرح روحانی اور دینی امور بھی نئے سے نئے ظاہر ہوتے رہتے ہیں۔پس اگر خاص انتظام اور پوری کوشش اور محنت کے ساتھ تحقیقات کی جائیں۔تو ضرور ہے کہ نئے دلائل ہم کو مل جائیں۔غرض یہ ایک نہایت ضروری