انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 381 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 381

انوار العلوم جلد ۴ ٣٨١ عرفان الهی دیکھو جب کوئی شخص مکان تعمیر کراتا ہے۔تو انجینئریا اور کسی واقف کار انسان سے حساب لگواتا ہے تاکہ کوئی چیز رہ نہ جائے اور مکان مکمل نہ ہو سکے۔اسی طرح روحانی عمارت تعمیر کرنے کے لئے قرآن انجنیئر ہے۔اس سے پوچھنا چاہئے کہ ہمیں ایمان کی تکمیل کے لئے کونسی چیزوں کی ضرورت ہے اور اس کا یہی طریق ہے کہ قرآن پڑھتے وقت جو جو امریا نہی آئے اس پر غور کرتے چلے جاویں کہ آیا اسی طرح ہمارا عمل ہے یا نہیں۔یہ ایسا طریق ہے کہ جو بھی کوشش کرے وہ کر سکتا ہے۔ہاں اس میں ایک احتیاط کی بھی ضرورت ہے۔اور وہ یہ کہ اس معاملہ میں نفس کی بات نہیں ماننی چاہئے۔مثلاً غیبت ہے۔اس کے متعلق اگر نفس کے کہ میں نے غیبت کبھی کی غیبت کی حقیقت ہی نہیں۔تو اس کو تسلیم نہیں کر لینا چاہئے۔بلکہ اول تو اپنے اعمال کو ٹولے۔اگر پھر بھی معلوم ہو کہ اس نے یہ جرم نہیں کیا تو پھر غیبت کی تشریح کرے کہ غیبت کیا ئے ہے۔بہت دفعہ تشریح کرنے سے معلوم ہو گا کہ انہوں نے غیبت کو اچھی طرح سمجھا ہی نہ تھا۔اس لئے سمجھ رہے تھے کہ ہم نے غیبت کبھی کی ہی نہیں۔کئی ایسے لوگ ہوتے ہیں کہ کسی کی برائی کر رہے ہوتے ہیں۔جب انہیں سمجھایا جائے کہ کیوں غیبت کرتے ہو تو کہتے ہیں کیا ہم جھوٹ کہتے ہیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ جانتے ہی نہیں کہ غیبت کیا ہوتی ہے وہ سمجھتے ہیں اگر کسی کے متعلق کوئی خلاف واقعہ بات بیان کی جائے تو وہ غیبت ہوتی ہے۔حالانکہ خلاف واقعہ بات کو جھوٹ کہا جاتا ہے۔اور غیبت سچی بات پس پشت بیان کرنے کو کہتے ہیں۔اب ایک ایسا شخص جو غیبت کی یہ تعریف سمجھتا ہے کہ پیٹھ پیچھے غلاف واقعہ بات بیان کرنے کو کہتے ہیں وہ جب یہ پڑھے گا کہ غیبت نہ کرو تو سمجھے گا کہ میں تو نہیں کرتا۔لیکن اگر غیبت کی صحیح تعریف اپنے دل میں لائیگا اور جھوٹ سے اس کا مقابلہ کریگا تو اسے معلوم ہو جائیگا کہ میں غیبت کا مرتکب ہو تا ہوں۔بعض لوگ کہا کرتے ہیں کہ ہم یہ بات تو اس کے مونہہ پر بھی کہنے کے لئے تیار ہیں۔گویا وہ غیبت کی یہ تعریف کرتے ہیں کہ جو بات مونہہ پر نہ بیان ہو سکے وہ غیبت ہوتی ہے حالانکہ جو شخص کسی بھائی کے عیب اس کے پیچھے بیان کرتا ہے۔اور پھر اس کے سامنے بیان کرنے کے لئے بھی تیار ہو جاتا ہے۔وہ دو گناہوں کا مرتکب ہوتا ہے اول غیبت کا دوم دل آزاری کا۔کسی کا وہ عیب جو خدا نے چھپایا ہو۔اس کا ظاہر کرنا گناہ ہے۔اور رسول کریم نے فرمایا ہے : خدا اس کا عیب چھپاتا ہے جو دوسرے کا چھپاتا ہے۔(ترمذی ابواب