انوارالعلوم (جلد 4) — Page 368
ام جلد ۴ عرفان الهی ہوتا ہے جو کچھ عرصہ بعد ویسا نہیں رہتا۔اس لئے جب کوئی انسان اقرار کریگا کہ اب میں فلاں گناہ نہیں کرونگا اس وقت اگر اس کے سامنے مشکل سے مشکل کام آئیگا تو اس کے کرنے کے لئے تیار ہو جائیگا۔لیکن کچھ عرصہ کے بعد اس میں یہ ہمت اور جرات نہیں ہو گی۔تو جب کوئی بات تازہ ہو اس وقت انسان میں بہت جوش ہوتا ہے۔اس لئے تو بہ کرنے کا وقت خاص طور پر کام کرنے کا وقت ہوتا ہے۔اس وقت اگر پچھلا پچھلا حساب صاف اور آئندہ نیکی کرنے کے ضروری امور حساب صاف کر لیا جائے تو ساتھ آئندہ کام کرنے کی بھی طاقت پیدا ہو جاتی ہے۔کیونکہ جب پچھلا بوجھ اتر جائے تو انسان آئندہ آسانی کے ساتھ ترقی کر سکتا ہے اب آئندہ حساب صاف رکھنے کے لئے اور نیکی میں ترقی کرنے کے لئے جو امور ضروری ہیں ان کو بیان کرتا ہوں۔اس کے لئے سب سے پہلی اور ضروری بات جو حصول تقویٰ کے لئے ضروری اور جس کا نتیجہ عرفان الہی ہے یہ ہے کہ انسان خیالات میں پاکیزگی پیدا کرے۔اس کی ابھی میں تشریح کرونگا جس سے معلوم ہو جائیگا کہ یہ تقویٰ حاصل کرنے کی ایک عجیب تدبیر ہے۔خیالات کے پاک رکھنے سے میری یہ مراد نہیں کہ کوئی برا خیال ہی نہ آئے۔ایسا ہونا تو اکثر لوگوں کے لئے ناممکن ہے۔بلکہ یہ ہے کہ اگر کوئی ناپاک خیال آئے تو اس کو دل میں پھیلایا نہ جائے۔مثلاً ایک شخص کے دل میں کسی وقت آئے کہ میں رشوت لوں تو وہ اس کے متعلق سوچنا اور تدبیریں کرنا شروع نہ کر دے۔بلکہ جہاں تک جلدی ہو سکے اس خیال کو اپنے دل سے نکالنے کی کوشش کرے اور اگر موقع پر اس سے غلطی ہو بھی جائے تو اور بات ہے۔لیکن جب یونہی خیال آئے اس وقت اس کو دل سے نکالنے کی کوشش کرنی چاہئے۔اس سے بہت فائدہ ہو گا۔کیونکہ ایک ایسے شخص کی نسبت جس کو ہر وقت یہی خیال رہے کہ میں رشوت لوں اور وہ سوچتا رہے کہ کہاں سے لوں اور کس طرح لوں ہ شخص ہزار درجے اصلاح کے قریب ہے جو رشوت لینے کے خیال کو تو دل سے نکالنے کی کوشش کرتا رہتا ہے لیکن موقع آجائے تو رشوت لے لیتا ہے۔وجہ یہ ہے کہ جو خیال انسان کے دل میں ہر وقت رہے اس کا بڑا اثر پڑتا ہے اور وہ دل پر ایسا نقش ہو جاتا ہے کہ پھر اس کا مٹانا سخت مشکل ہو جاتا ہے لیکن جس خیال کو نکالنے کی کوشش کی جاتی ہے وہ نقش نہیں ہو سکتا۔پس جب کوئی برا خیال پیدا ہو تو فورا اسے نکال دو اور دوسری طرف متوجہ ہو جاؤ اور یہ 03