انوارالعلوم (جلد 4) — Page 367
انوار العلوم بلدم " ۳۶ عرفان الهی لوگ بیگ یور پارڈن " (Beg your parden) میں آپ سے معافی چاہتا ہوں کہدیا کرتے ہیں حالانکہ معافی مانگنے کا انہیں کچھ بھی خیال نہیں آتا۔ایسے لوگوں کی تو بہ کو توبہ نہیں کہا جا سکتا اور نہ اس طرح کی تو بہ کوئی فائدہ دے سکتی ہے۔ہر ایک انسان کو چاہئے کہ جو امور میں نے بتائے ہیں انکو مد نظر رکھ کر حقیقی توبہ کرے تاکہ اسکا پچھلا حساب صاف ہو جائے۔کیونکہ جب تک پچھلا حساب صاف نہ ہو اس وقت تک آگے صفائی کے ساتھ معاملہ نہیں چلتا اور پچھلا نقص بڑھتا رہتا ہے۔پس ہر ایک انسان کو چاہئے کہ پچھلا حساب صاف کرنے کیلئے تو بہ کرے اور حقیقی تو بہ کرے۔تو بہ کے جو طریق میں نے بتائے ہیں ان پر عمل کرنے سے پچھلا قرضہ اتر جاتا ہے اور ایک پائی بھی باقی نہیں رہ جاتی۔اسکے بعد انسان کو شش کرے تو عارف باللہ بن سکتا ہے۔جب پچھلا حساب بالکل صاف ہو جائے تو پھر آئندہ کا حساب چلتا ہے لیکن یہاں ایک سوال برا ہو سکتا ہے اور وہ یہ ہے کہ ایک تو تم کہتے ہو کہ انسان پچھلا قرضہ بے باق کرے اور دوسرے کہتے ہو کہ آئندہ نیکیاں کرے۔اتنا بڑا بوجھ کس طرح اٹھایا جا سکتا ہے۔اس کے متعلق یاد رکھنا چاہئے کہ روحانی امور ایسے ہوا کرتے ہیں کہ ان میں بظاہر زیادہ بوجھ معلوم ہوتا ہے لیکن دراصل اسی بوجھ میں کامیابی کا راز ہوتا ہے۔دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ایک غریب اور نادار شخص آیا۔آپ نے اسے غربت کا یہ علاج بتایا کہ شادی کر لو۔اس نے کر لی۔پھر آیا اور اپنی غربت کا اظہار کیا اس پر بھی رسول کریم نے فرمایا ایک اور شادی کر لو۔اس نے اور کرلی۔مگر رسول کریم کو آکر کہا کہ ایک کو کھلانے کے لئے کچھ نہیں تھا اب دو کو کیا کھلاؤں۔آپ نے فرمایا ایک اور شادی کر لو۔اس نے اور کرلی اور کچھ دن کے بعد آکر کہا یا رسول اللہ ! اب تو موت تک حالت پہنچ گئی ہے۔آپ نے فرمایا ایک اور نکاح کرلو۔اس نے وہ بھی کر لیا۔کچھ عرصہ کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا۔بتاؤ اب کیا حال ہے۔تو اس نے کہا حضور دولت ہی دولت ہے تو یہ شرعی عقدے ہوتے ہیں۔جن کو ہر ایک شخص نہیں سمجھ سکتا۔مگر میں اس کے متعلق کسی قدر بتاتا ہوں۔اول تو یہ کہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے جب تک پچھلا حساب صاف نہ کر لیا جائے اس وقت تک آگے صحیح طور پر حساب نہیں چل سکتا۔اور جب تک برتن کی ناقص چیز کو دور نہ کر دیا جائے اس وقت تک اس برتن میں ڈالی ہوئی چیزا چھی نہیں رہ سکتی۔اسلئے ضروری ہے کہ پہلے نقائص اور خرابیوں کو دور کیا جائے تاکہ ان کا اثر آگے نہ بڑھے۔دوم۔جب کوئی کام نیا نیا شروع کیا جائے تو خاص جوش