انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 339 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 339

العلوم جلدم ۳۳۹ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ عرفان انی عرفان الهی تقریر جلسه سالانه ۱۶ مارچ ۱۹۱۹ء) اَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ أَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ O مَلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ ، اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ أمِين - میری عادت پچھلے سالوں میں جلسے کے موقع پر یہ رہی ہے کہ پہلے دن وہ نصائح بیان کیا کرتا ہوں جو عام طور پر جماعت کی اصلاح کے لئے ضروری ہوں اور دوسرے دن کسی ایسے علمی مسئلہ پر لیکچر ہوتا ہے جو جماعت کی عملی اصلاح کا ممدو معاون ہو سکتا ہے۔مگر اس سال بعض واقعات کی وجہ سے میں نے ارادہ کیا ہے بشرطیکہ یہ ارادہ اللہ تعالیٰ کے ارادہ کے ساتھ مل جائے کہ بجائے اس کے کہ دوسرے دن اس مضمون کو بیان کروں جو علمی طور پر کسی مسئلہ کی تحقیق کے متعلق ہو وہ پہلے ہی دن بیان کروں اور جیسا کہ پہلے جلسوں میں پہلے دن کی تقریر چند متفرق مسائل کے متعلق ہوتی تھی اب کے وہ تقریر دوسرے دن ہو۔اس ارادہ کے ماتحت آج میں آپ لوگوں کو ایک نہایت ضروری امر کے متعلق کچھ سناتا ہوں۔لیکن پیشتر اس کے کہ اصل مضمون کو شروع کروں اتنا کہدینا ضروری سمجھتا ہوں کہ پچھلے دنوں کی طویل اور سخت علالت کی وجہ سے اور پھر بوجہ اس کے کہ چند ہی دن ہوئے مجھے لاہور جانا پڑا تھا اور وہاں متواتر کئی دن بہت دیر تک مذہبی گفتگو کرنی پڑی اور دو لیکچر بھی دیئے۔جس سے صحت پر بہت اثر پڑا