انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 307 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 307

ار العلوم جلد ۴ اسلام میں اختلافات کا آغاز منسوب نہیں کی جا سکتی۔اسی طرح جب اس پیغامبر کو پکڑا گیا تو جو سوال و جواب اس سے ہوئے وہ بالکل غیر طبعی ہیں۔کیونکہ وہ بیان کرتا ہے کہ وہ پیغامبر ہے۔لیکن نہ اسے کوئی خط دیا گیا ہے اور نہ اسے کوئی زبانی پیغام دیا گیا ہے یہ جواب سوائے اس شخص کے کون دے سکتا ہے جو یا تو پاگل ہو یا خود اپنے آپ کو شک میں ڈالنا چاہتا ہو۔اگر واقع میں وہ شخص پیغامبر ہو تا تو اسے کیا ضرورت تھی کہ وہ کہتا کہ میں حضرت عثمان یا کسی اور کا بھیجا ہوا ہوں۔یہ بھی نہیں کہا جا سکتا ہے کہ وہ سچ کا بڑا پابند تھا کیونکہ کہا جاتا ہے کہ اس کے پاس خط تھا۔مگر اس نے کہا کہ میرے پاس کوئی خط نہیں پس ان لوگوں کی روایت کے مطابق اس پیغامبر نے جھوٹ تو ضرور بولا۔پس سوال یہ ہے کہ اس نے وہ جھوٹ کیوں بولا جس سے وہ صاف طور پر پکڑا جاتا تھا۔وہ جھوٹ کیوں نہ بولا جو ایسے موقع پر اس کو گرفتاری سے بچا سکتا تھا۔غرض یہ تمام واقعات بتاتے ہیں کہ خط اور خط لے جانے والے کا واقعہ شروع سے آخر تک فریب تھا۔انہی مفسدوں میں سے کسی نے زیادہ تر گمان یہ ہے کہ عبداللہ بن سبانے) ایک جعلی خط بنا کر ایک شخص کو دیا ہے کہ وہ اسے لے کر قافلہ کے پاس سے گزرے لیکن چونکہ ایک آباد راستہ پر ایک سوار کو جاتے ہوئے دیکھ کر پکڑ لینا قرین قیاس نہ تھا اور اس خط کو بنانے والا چاہتا تھا کہ جہاں تک ہو سکے اس نے واقعہ کو دوسرے کے ہاتھ سے پورا کروائے اس لئے اس نے اس قاصد کو ہدایت کی کہ وہ اس طرح قافلہ کے ساتھ چلے کہ لوگوں کے دلوں میں شک پیدا ہو اور جب وہ اس شک کو دور کرنے کے لئے سوال کریں تو ایسے جواب دے کہ شک اور زیادہ ہو۔تاکہ عامۃ الناس خود اس کی تلاشی لیس اور خط اس کے پاس دیکھ کر ان کو یقین ہو جاوے کہ حضرت عثمان نے ان سے۔فریب کیا ہے۔اس خط کا مضمون بھی بتاتا ہے کہ وہ خط جعلی ہے اور کسی واقف کار مسلمان کا بنایا ہوا نہیں۔کیونکہ بعض روایات میں اس کا یہ مضمون بتایا گیا ہے کہ فلاں فلاں کی ڈاڑھی منڈوائی جاوے حالانکہ ڈاڑھی منڈوانا اسلام کی رو سے منع ہے اور اسلامی حکومتوں میں سزا صرف وہی دی جاسکتی تھی جو مطابق اسلام ہو۔یہ ہرگز جائز نہ تھا کہ کسی شخص کو سزا کے طور پر سور کھلایا جاوے یا شراب پلائی جاوے یا ڈاڑھی منڈار کی جاوے۔کیونکہ یہ ممنوع امر ہے۔سزا صرف قتل یا ضرب یا جرمانہ یا نفی عن الارض کی اسلام سے ثابت ہے خواہ نفی بصورت جلا وطنی ہو یا بصورت قید۔اس کے سوا کوئی سزا اسلام سے ثابت نہیں اور نہ ائمہ اسلام نے کبھی ایسی سزا