انوارالعلوم (جلد 4) — Page 261
وم جلد ۴ اسلام میں اختلافات کا آغاز خیالات سے متاثر ہونا دو عظیم الشان سبب تھے اس امر کے کہ اس وقت کے اکثر نو مسلم دین سے کما حقہ واقف نہ ہو سکے۔حضرت عمر کے وقت میں چونکہ جنگوں کا سلسلہ بہت بڑے پیمانے پر جاری تھا اور ہر وقت دشمن کا خطرہ لگا رہتا تھا لوگوں کو دوسری باتوں کے سوچنے کا موقع ہی نہ ملتا تھا۔اور پھر دشمن کے بالمقابل پڑے ہوئے ہونے کا باعث طبعا ند ہی جوش بار بار رونما ہوتا تھا۔جو مذہبی تعلیم کی کمزوری پر پردہ ڈالے رکھتا تھا۔حضرت عثمان کے ابتدائی عہد میں بھی یہی حال رہا۔کچھ جنگیں بھی ہوتی رہیں اور کچھ پچھلا اثر لوگوں کے دلوں میں باقی رہا۔جب کسی قدر امن ہوا اور پچھلے جوش کا اثر بھی کم ہوا تب اس مذہبی کمزوری نے اپنا رنگ دکھایا اور دشمنان اسلام نے بھی اس موقع کو غنیمت سمجھا اور شرارت پر آمادہ ہو گئے۔غرض یہ فتنہ حضرت عثمان کے کسی عمل کا نتیجہ نہ تھا۔بلکہ یہ حالات کسی خلیفہ کے وقت میں بھی پیدا ہو جاتے فتنہ نمودار ہو جاتا۔اور حضرت عثمان کا صرف اس قدر قصور ہے کہ وہ ایسے زمانہ میں مسند خلافت پر متمکن ہوئے جب ان فسادات کے پیدا کرنے میں ان کا اس سے زیادہ دخل نہ تھا جتنا کہ حضرت ابو بکر اور حضرت عمرہ کا اور کون کہہ سکتا ہے کہ یہ فساد ان دونوں بزرگوں کی کسی کمزوری کا نتیجہ تھا۔میں حیران ہوں کہ کس طرح بعض لوگ ان فسادات کو حضرت عثمان کی کسی کمزوری کا نتیجہ قرار دیتے ہیں حالانکہ حضرت عمرؓ جن کو حضرت عثمان کی خلافت کا خیال بھی نہیں ہو سکتا تھا انہوں نے اپنے زمانہ خلافت میں اس فساد کے بیج کو معلوم کر لیا تھا۔اور قریش کو اس سے بڑے زور دار الفاظ میں متنبہ کیا تھا۔چنانچہ لکھا ہے کہ حضرت عمر صحابہ کبار کو باہر نہیں جانے دیا کرتے تھے اور جب کوئی آپ سے اجازت لیتا تو آپ فرماتے کہ کیا رسول کریم ﷺ کے ساتھ مل کر جو آپ لوگوں نے جہاد کیا ہے وہ کافی نہیں ہے۔۴۔آخر ایک دفعہ صحابہ نے شکایت کی تو آپ نے فرمایا کہ میں نے اسلام کو اس طرح چُرایا ہے جس طرح اونٹ چرایا جاتا ہے پہلے اونٹ پیدا ہوتا ہے پھر بٹھا بنتا ہے۔پھر دو دانت کا ہوتا ہے۔پھر چار دانت کا ہوتا ہے۔پھر چھ دانت کا ہوتا ہے۔پھر اس کی کھلیاں نکل آتی ہیں۔اب بتاؤ کہ جس کی کچلیاں نکل آدیں اس کے لئے سوائے ضعف کے اور کسی امر کا انتظار کیا جا سکتا ہے۔سنو! اسلام اب اپنے کمال کی حد کو پہنچ گیا ہے۔قریش چاہتے ہیں کہ سب مال یہی لے جاویں اور دوسرے لوگو محروم رہ جاویں۔کہ سنو! جب تک عمر بن الخطاب زندہ ہے وہ قریش کا گلا پکڑے رکھے گا تاکہ وہ تو فتنہ کی آگ میں نہ گر جاویں۔(طبری جلد 4 صفحہ ۳۰۲۶٬۳۰۲۵ مطبوعہ بیروت) مي