انوارالعلوم (جلد 4) — Page 233
م جلد ۴ ٣٣٣ اصلاح اعمال کی تلقین دیتے ہیں۔مگر یہ شواہد اور مثالیں جو میں نے پیش کی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی کوئی حرکت اور کوئی فعل بے نتیجہ نہیں ہوتا اور نہ وہ اس تک محدود رہتا ہے بلکہ اس کا اثر دور دور تک پھیلتا ہے۔ہاں جب وہ طاقتور ہوتا ہے تو بہت سے لوگوں کو محسوس ہوتا ہے اور جب کمزور ہوتا ہے تو کم لوگوں کو محسوس ہوتا ہے لیکن ہوتا ضرور ہے اور کچھ نہ کچھ اثر ضرور کرتا ہے۔چنانچہ اس لئے خدا تعالٰی نے قرآن مخفی لہروں کے اثر کرنے کا ثبوت قرآن سے کریم میں فرمایا ہے کہ قُل اَعُودُ بِرَبِّ النَّاسِ مَلِكِ النَّاسِ إِلَهِ النَّاسِ مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ ٥ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ (الناس : ۲تا ) اس میں اللہ تعالٰی نے بتایا ہے کہ انسان کے دل میں پیدا ہونے والی مخفی لہریں بھی دو سروں پر اثر کرتی ہیں کیونکہ فرماتا ہے کہو ہم پناہ مانگتے ہیں خناس کے وسوسوں سے۔گویا ایسے لوگ ہوتے ہیں جو خود تو پیچھے رہتے ہیں لیکن ان کے وسوسے یعنی گندے خیالات دوسروں کے دلوں میں جاپڑتے ہیں۔اس میں یہ بھی بتایا کہ فضا میں آپ تو نظر نہیں آتے مگر ان کا وسوسہ دل میں آجاتا ہے کس طرح؟ اسی طرح کہ ان کے دل میں پیدا ہونے والی لہر چلتی ہے اور اس طرح ان کے گندے خیالات دوسروں تک پہنچ جاتے ہیں۔اس بات کی تصدیق اس سے بھی ہوئی ہے کہ عموماً دیکھا گیا ہے جب کوئی نیا خیال پھیلنے لگتا ہے تو مختلف شہروں میں اس خیال کے لوگ کھڑے ہو جاتے ہیں۔اسی طرح تحقیقاتوں کے متعلق بھی دیکھا گیا ہے مثلاً ڈارون تھیوری ہے اس کے تین شخص مدعی ہیں۔ایک انگریز دوسرا جرمن اور تیسرا فرانسیسی۔لیکن محققین کہتے ہیں کہ ایک ہی زمانہ میں ان تینوں کو یہ خیال پیدا ہوا تھا چنانچہ یہ ثابت کیا گیا ہے کہ یہ تینوں ایک دوسرے کے ہم عصر تھے تو خیالات ایک سے دوسرے کے دل میں پیدا ہوتے ہیں۔اسی لئے صحبت صالح کا حکم ہے اس میں یہی حکمت کی صالحین کی صحبت میں بیٹھنے کا حکم ہے خدا کے برگزیدہ بندوں کی بات تو تحریر کے ذریعہ یا دوسروں کی زبانی بھی معلوم ہو سکتی ہے۔پھر كُونُوا مَعَ الصُّدِقِيْنَ (التوبة : 19) میں صادقوں کی صحبت میں رہنے کا کیوں اشارہ کیا گیا ہے۔پھر رسول کریم" کے پاس رہ کر تعلیم حاصل کرنے یا مسیح موعود کا اپنی صحبت میں رہنے کی تاکید کرنے کا کیا مطلب ہے۔در حقیقت بات یہ ہے کہ