انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 232 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 232

اصلاح اعمال کی تلقین ختم کر سکا۔پھر جب میں سونے لگا تو اس وقت بھی یہی خیال تھا اور جب اٹھا تو بھی یہی اور اس کے 1 بعد بھی یہی رہا۔حتی کہ میں وضو کر کے نماز کے لئے روانہ ہوا اور سیڑھیوں سے نیچے اترا تو حضرت خلیفہ اول اترتے ہی ملے۔فرمانے لگے آج آپ کو میں نے بڑا تلاش کرایا آپ کہاں تھے۔میں نے کہا میں تو گھر میں ہی رہا ہوں معلوم نہیں تلاش کرنے والے سے غلطی ہوئی یا کیا۔میں تو گھر سے نکلا ہی نہیں۔فرمانے لگے میں نہیں جانتا کیا وجہ ہے صبح سے میرے دل میں ایک تحریک بہت زور کے ساتھ ہو رہی ہے کہ آپ آج اس امر پر تقریر کریں کہ لوگ قرآن پڑھیں یہ باتیں کرتے کرتے جب ہم ہندوؤں کے اس مکان کے قریب پہنچے جو بڑی مسجد کے قریب ہے تو آپ نے فرمایا کہ تقریر کرنے کے لئے کوئی آیت منتخب کر لو اور پھر خود ہی فرمایا اچھا یہی آیت سی يُرَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا انَ مَهْجُورًا اس پر میں نے سنایا کہ رات سے میرے دل میں یہی آیت آرہی تھی اور اس پر تقریر کرنے کی بڑے زور سے تحریک ہو رہی تھی۔کہنے لگے شاید تمہاری ہی تحریک کا مجھ پر اثر ہوا ہے۔تو اس قسم کی لہریں ہوتی ہیں جو ہر قلب کے اندر پیدا ہوتی ہیں اور جس قدر زبر دست اور زور دار ہوتی ہیں اسی قدر زیادہ پھیلتی ہیں اور ان میں فرق یہی ہوتا ہے کہ بعض اتنی کمزور ہوتی ہیں جنہیں ہر قلب محسوس نہیں کرتا جس طرح ہوا میں لہریں تو موجود ہوتی ہیں لیکن ہر آنکھ محسوس نہیں کر سکتی بلکہ خاص آلہ ہی محسوس کرتا ہے اور باریک سے باریک ذرات ہوتے ہیں مگر کوئی آنکھ انہیں دیکھ نہیں سکتی بلکہ خوردبین ہی دکھاتی ہے۔اسی طرح قلب میں پیدا ہونے والی لہروں کا حال ہوتا ہے اور بعض ایسی نمایاں اور زوردار ہوتی ہیں کہ تمام لوگ محسوس کر سکتے ہیں تو ہر ایک فعل جو انسان سے سرزد ہوتا ہے اور ہر ایک خیال جو انسان کو پیدا ہوتا ہے وہ موجود رہتا ہے اور نہ صرف موجود رہتا ہے بلکہ تمام انسانی | دماغوں میں جاتا ہے۔ہاں اگر وہ کمزور ہوتا ہے تو محسوس نہیں ہوتا اور اگر زور دار ہوتا ہے تو سب کو محسوس ہوتا ہے۔اس سے ہمارے لئے ایک نتیجہ نکلا کوئی انسان اپنے آپ کو غیر ذمہ دار نہ سمجھے اور وہ یہ کہ ہم جس طرح اپنے آپ کو غیر ذمہ دار سمجھتے ہیں در حقیقت اس طرح غیر ذمہ دار نہیں ہیں۔بہت سی باتوں کے متعلق انسان سمجھتے ہیں کہ ہم ان کے ذمہ دار نہیں ہیں۔اس لئے وہ لا پرواہی سے اسے منہ سے نکال