انوارالعلوم (جلد 4) — Page 231
دم جلد ۴ اصلاح اعمال کی تلقین دونوں میں فرق کیا ہے؟ یہ کہ شرک کی جو لر پیدا ہوئی اس کے متعلق کوئی پتہ نہیں کہ کہاں سے پیدا ہوئی لیکن اس کے خلاف جو لہر پیدا ہوئی وہ اس قدر نمایاں اور واضح ہے کہ ہر ایک جانتا ہے کہ رسول کریم ال کے ذریعہ پیدا ہوئی۔ایک کے دل سے نکلی ہوئی رو دو سرے کے دل پر کس طرح اثر کرتی ہے اس امر کا ان لوگوں کے لئے سمجھنا ذرا مشکل ہے جو روحانیت سے ناواقف ہیں کہ ایک کے دل سے نکلی ہوئی ہر کس طرح دوسرے پر اثر کرتی ہے لیکن اس کی مثالیں عام طور پر پائی جاتی ہیں۔حضرت خلیفہ اول فرماتے تھے کہ ایک سکھ تھا جو لاہور کے کسی کالج میں پڑھتا تھا اور اس کا حضرت مسیح موعود سے بہت تعلق تھا ایک دفعہ اس نے کہلا بھیجا کہ حضرت مرزا صاحب سے عرض کی جائے کہ جب میں کالج میں جاکر بیٹھتا ہوں تو میرے دل میں دہریت کے خیالات پیدا ہونے شروع ہو جاتے ہیں ان سے بچنے کے لئے کوئی تدبیر بتائی جائے۔حضرت صاحب نے کہلا بھیجا کہ کالج میں جس جگہ بیٹھتے ہو اسے بدل ڈالو چنانچہ اس نے جب جگہ بدلی تو اس قسم کے خیالات پیدا ہونے بند ہو گئے۔بات کیا تھی یہ کہ اس کے ارد گرد ایسے لڑکے بیٹھتے تھے جن میں دہریت پائی جاتی تھی اور ان کے خیالات کی رو نکل کر اس تک پہنچتی اور اسے متاثر کرتی تھی اور چونکہ اس کے اندر معرفت اور نور نہ تھا اس لئے اس کا دل دہریت کے اثر سے دب جاتا تھا۔لیکن جب اس نے جگہ بدل لی تو محفوظ ہو گیا۔اسی طرح بہت دفعہ دیکھا گیا ہے کہ ایک انسان کے دل میں خیال آتا ہے کہ یہ بات ہو جائے۔مگر قبل اس کے کہ وہ اظہار کرے دوسرا اس خیال کو بیان کر دیتا ہے۔کیوں اس لئے کہ ایک کا دوسرے پر اثر ہو جاتا ہے۔ایک دفعہ میں عشاء کی نماز پڑھ رہا تھا اور یہ اسوقت کا ذکر ہے جب حضرت خلیفہ اول گھوڑے سے گرنے کی وجہ سے بیمار تھے اور ابھی اچھی طرح صحت یاب نہ ہوئے تھے۔نماز پڑھاتے ہوئے جب میں سجدہ میں گیا تو خیال آیا کہ کل جمعہ میں اس آیت پر تقریر کروں کہ يُرَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا (الفرقان : ٣١ ) اس وقت نہ اس کے متعلق کوئی خیال تھا نہ کوئی اس قسم کا واقعہ ہوا تھا کہ میں نے اس آیت کو کسی وقت پڑھا ہو یا سنا ہو لیکن ایسے جوش کے ساتھ یہ خیال پیدا ہوا کہ میں نے سمجھا خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ تحریک ہے اور یہ اس زور سے پیدا ہوئی کہ میں بمشکل اسے دبا کر نماز