انوارالعلوم (جلد 4) — Page 213
والعلوم جلد ۴ ۲۱۳ اور مبائعین کو بحث میں لکھنا پڑا کہ آنحضرت ﷺ کو بھی تین یا چھ سال تک یہ شک رہا کہ آپ کی وحی شیطانی ہے یا رحمانی۔میرے نزدیک ایک ایسا حملہ ہے جس کا ثبوت آپ کے پاس نہیں اگر کوئی شخص میری جماعت میں سے ایسا خیال کرتا ہے تو میرے نزدیک وہ سخت غلطی کرتا ہے اور اس نے حقیقت نبوت کو سمجھا ہی نہیں۔اور جہاں تک مجھے علم ہے یہ الزام مبالعین پر محض سنی سنائی باتوں پر آپ نے لگا دیا ہے۔حالانکہ نبی کریم ا فرماتے ہیں کہ کفی بِالْمَرْءِ كَذِبًا أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ (مسلم خطبة الكتاب باب النهي عن الحديث بكل ما سمع) یعنی وہ آدمی بڑا جھوٹا ہے جو ہر ایک سنی بات کو آگے بیان کر دیتا ہے۔ممکن ہے کہ کسی اور شخص کا خیال پچھلے علماء سے کسی نے بیان کیا ہو یا اور کوئی ایسی ہی بات ہو ورنہ میں مؤمنانہ حسن ظنی سے کام لیتے ہوئے اس الزام سے بالکل انکار کرتا ہوں۔اور مولوی عمرالدین صاحب کی نسبت تو مجھے یاد پڑتا ہے (گو یہ واقعہ پورے طور پر مجھے یاد نہیں۔غالبا وہ اس کی نسبت زیادہ بیان کر سکیں گے) کہ شملہ میں پچھلے سال مجھ سے میاں عبد الحق غیر مبائع نے ذکر کیا تھا کہ مولوی صاحب نے رسول اللہ ا کی نسبت ایسا کہا ہے تو انہوں نے اسی وقت اس سے انکار کیا اور کہا کہ شیطانی وحی کا ہونا میں نے ہر گز آنحضرت ا کی نسبت بیان نہیں کیا۔مگر مولوی صاحب ایک بات کا تو آپ بھی انکار نہیں کر سکتے کہ ایک متواتر حدیث جو صحاح میں پائی جاتی ہے بلکہ بخاری کی حدیث ہمیں بتلاتی ہے کہ تین سال یا چھ سال تک اپنی وحی کے معنی کرنے میں آنحضرت ا کو تردد رہا ہے۔میں اس شخص کو جھوٹا سمجھتا ہوں جو کہے کہ آنحضرت ﷺ کو اپنی وحی کی نسبت یہ شبہ تھا کہ شیطانی یا رحمانی ہے۔مگر اس بات میں کیا شک ہے کہ باوجود صریح وحی کے آپ گھبرا کر اپنی بیوی کے پاس گئے اور بعد میں ان کے مشورہ سے اس وحی کے مطلب کے متعلق مشورہ کرنے کے لئے آپ ورقہ بن نوفل کے پاس گئے۔اگر آپ کو اس کے مطلب کے متعلق تردد نہ تھا تو آپ ورقہ کے پاس کیوں گئے تھے اور گھبرائے ہوئے کیوں تھے۔صاف ظاہر ہے کہ آپ حیران تھے کہ میں اس وحی کو اس کے ظاہری الفاظ پر محمول کروں یا کچھ اور مطلب سمجھوں۔مگر ظاہر ہے کہ باوجود اس کے کہ ورقہ نے اس وحی کو ظاہری معنوں پر محمول کیا پر آپ نے اس کی نسبت احتیاط کا پہلوہی اختیار کیا اور جب صریح اور متواتر وحی نے آپ کو مجبور نہ کیا آپ احتیاط سے ہی کام لیتے رہے اور آپ اس واقعہ کا جو زبر دست اور صحیح احادیث سے ثابت ہے کس طرح انکار کر سکتے ہیں۔کیا کسی ؟