انوارالعلوم (جلد 4) — Page 197
العلوم جلد ) ۱۹۷ حقیقته الرؤيا لوگ مارے مارے پھرتے رہے اور جن کو کہا گیا وہ ہلاک ہو گئے۔اور بعد والوں کو اس ملک میں جانا نصیب ہوا کیونکہ پہلے اس فضل اور انعام کے حاصل کرنے کے مستحق نہ رہے تھے۔اس لئے ان کو نہ ملا اور ان کے حالات کے بدلنے سے وعدہ ٹل گیا۔پس وہ لوگ جو حضرت مسیح موعود کی اس قسم کی پیشگوئیوں پر اعتراض کرتے ہیں ان کے لئے ان دو نبیوں کی مثالیں موجود ہیں۔چونکہ حضرت مسیح موعود پر آپ کے دشمنوں نے یہ اعتراض کرنا تھا۔اس لئے رسول کریم ﷺ نے ان دونوں انبیاء کی عظمت اور بڑائی بتانے کے لئے فرمایا کہ یونس اور موسیٰ پر مجھے فضیلت مت دو (بخاری کتاب الانبياء۔باب قول الله عز وجل "وان يونس لمن المرسلين - الى قوله و هو ملیم یعنی ان کی بہت بڑی قدر اور عزت کرو۔لیکن اب وہ لوگ جو حضرت مسیح موعود کی اس قسم کی پیشگوئیوں پر اعتراض کرتے ہیں جیسی کہ ان انبیاء نے کی تھیں، وہ دراصل حضرت مسیح موعود پر اعتراض نہیں کرتے بلکہ انہیں انبیاء پر کرتے ہیں۔اور آنحضرت ﷺ نے ان کی جو شان بتائی تھی اس کی کوئی پرواہ نہیں کرتے حالانکہ ایسی پیشگوئیاں خدا کا اقتدار اور شان ظاہر کرنے کے لئے ہوتی ہیں۔اب ایک سوال ہو سکتا ہے اور وہ یہ ہے کہ انبیاء کو اجتہادی غلطی کیوں لگتی ہے۔کیوں خدا انہیں صحیح صحیح بات نہیں سمجھا دیتا۔اور اجتہادی غلطی میں ڈال کر لوگوں کو ابتلاء میں ڈالتا ہے۔اس کے متعلق یاد رکھنا چاہئے کہ لوگ تو اس کو نبی کی کمزوری سمجھتے ہیں لیکن میرے نزدیک یہ بھی اس کے صدق دعوی کی ایک بڑی بھاری دلیل ہوتی ہے اور وہ اس طرح کہ اگر نبی کو اجتہادی غلطی نہ لگے تو سپر چلزم والے کہہ سکتے ہیں کہ وہ اپنے قیاس سے یہ باتیں معلوم کر کے بیان کر دیتا ہے۔لیکن اب جب کہ خدا تعالٰی نبی کے منہ سے اس کی پیشگوئی کے کسی اور طرح پر پورا ہونے کا اعلان کروا دیتا ہے۔اور پورا اور طریق پر کرتا ہے تو یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس نبی نے اپنے قیاس سے یہ بات بیان کی تھی۔کیونکہ اگر وہ اپنے قیاس سے بیان کرتا تو چاہئے تھا کہ جس طرح اس کا خیال تھا اسی طرح پوری ہوتی۔لیکن نبی کا اور خیال ہونا اور پیشگوئی کا اور طریق پر پورا ہونا بتاتا ہے کہ الہام اس نے اپنے قیاس سے نہ بنایا تھا۔بلکہ اس کے بتانے والی کوئی اور زبردست ہستی ہے۔پھر شرطی پیشگوئیوں سے ایک نجومی اور نبی میں بین فرق معلوم ہو جاتا ہے۔مثلاً ایک نجومی خبر دے کہ زلزلہ آئے گا اور ہو سکتا ہے کہ آجائے۔لیکن جب آئے تو بعید نہیں کہ نجومی