انوارالعلوم (جلد 4) — Page 192
علوم جلد ۴ ۱۹۲ حقیقته الرؤيا جس سے اس کا مرنا مراد ہو۔اس کے متعلق سوال ہو سکتا ہے کہ جب خبر دی جاتی ہے تو صاف طور پر کیوں نہیں دی جاتی یہ رنگ اختیار کرنے کی کیا وجہ ہوتی ہے۔بات یہ ہے کہ اس طرح یہ بتلانا ہوتا ہے کہ یہ خبر خدا کی طرف سے ہے نہ کہ حدیث النفس یا قیاس۔کیونکہ مثالی رنگ میں دکھایا کچھ جاتا ہے اور اس کا مطلب کچھ اور ہوتا ہے جس کا علم تعبیر سے ہوتا ہے۔اور بعض دفعہ دیکھنے والے کو خود اس خواب کی تعبیر معلوم نہیں ہوتی اور دوسرے سے پوچھنی پڑتی ہے۔جس سے معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ اس کے نفس کی ملاوٹ نہ تھی بلکہ کسی اور ہی ہستی کی طرف سے ایک اطلاع تھی۔اب میں ماموروں کے الہام کی شناخت ماموروں کے الہام کی صداقت کی علامات کی علامات بتاتا ہوں۔پہلی علامت تو یہ ہے کہ ماموروں کے الہام میں اقتداری غیب ہوتا ہے۔غیب تو غیر ماموروں کے الہاموں میں بھی ہوتا ہے لیکن ماموروں کے الہامات میں اس کا اقتداری رنگ ہوتا ہے۔مثلا یہ کہ اگر فلاں شخص ہمیں مان لے گا۔یا فلاں کام سے باز آجائے گا تو بچ جائے گا ور نہ ہلاک ہو جائے گا۔لیکن غیر مامور کے الہام میں یہ بات نہیں ہوتی یا بہت ادنی درجہ پر شاذ و نادر ہوتی ہے۔دوسری علامت یہ ہے کہ ان کے الہامات میں کثرت سے غیب ہوتا ہے۔اوروں کو کثرت سے الہام تو ہو سکتے ہیں لیکن کثرت غیب نہیں ہوتا۔تیسری علامت یہ ہے کہ ماموروں کے الہامات وسیع الاثر ہوتے ہیں۔سارے جہان یا قوموں کے بڑھنے یا مٹنے سے تعلق رکھتے ہیں لیکن غیر مامور کے الہام میں یہ بات نہیں ہوتی۔بات یہ ہے کہ غیر مامور تو اپنے نفس کا ہی ذمہ دار ہے اس لئے اسے اپنے متعلق ہی بتایا جاتا ہے اور مامور ساری دنیا کے لئے ہوتا ہے اس لئے اس کے الہامات بھی وسیع الاثر ہوتے ہیں۔چوتھی علامت یہ ہے کہ مامور کے الہامات کے ساتھ خدا کی طاقت اور قدرت ہوتی ہے یعنے اس کے ذریعہ خدا اپنا جلال ظاہر کرتا ہے اور اس کے الہامات روحانیت پیدا کرنے والے اور دنیا کے دلوں کو الٹ دینے والے ہوتے ہیں۔پانچویں علامت یہ ہے کہ سچا ملم جو خدا کی طرف سے آتا ہے اسے رعب دیا جاتا ہے اور دشمن اس کے سامنے آنے کی جرأت نہیں کر سکتا۔اور اگر آئے تو مرعوب ہو جاتا ہے۔اس