انوارالعلوم (جلد 4) — Page 183
و العلوم جلد AP حقیقته الرؤيا پھر وہاں جانے کی خواہش کرے گا۔حتی کہ اسی طرح ہوتے ہوتے اسے جنت کے قریب کر دیا جائے گا اور جنت کا نظارہ اسے نظر آنے لگے گا۔اس وقت وہ کہے گا مجھے جنت کے دروازہ پر کھڑا کر دیا جائے پھر میں کوئی سوال نہ کروں گا۔لیکن جب وہاں کھڑا کر دیا جائے گا تو پھر اندر داخل ہونے کی خواہش کرے گا۔اس وقت اس سے اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ مانگ جو کچھ مانگتا ہے۔اس پر وہ سوال کرے گا۔اور اللہ تعالیٰ اس سے اور مانگنے کے لئے کہے گا۔یہاں تک کہ وہ اپنے علم کے مطابق سب کچھ مانگ لے گا۔اس پر خدا تعالیٰ کے گا کہ یہ سب کچھ تجھے دیا اور اس کے علاوہ یہ یہ کچھ بھی۔(مسلم کتاب الايمان باب اثبات الشفاعة واخراج الموحدين من النار باب أخر اهل النار خروجا باب ادنى اهل الجنة منزلة فيها، تو یہ خدا تعالی کے فضل اور رحم کرنے کا طریق ہے۔ورنہ اگر اسے دوزخ سے نکالتے وقت ہی کہا جاتا کہ جو تجھے مانگنا ہے مانگ لے۔تو وہ بیچارہ دوزخ سے نکل کر باہر کھڑا ہونا ہی مانگتا۔کیوں کہ اور نعمتوں کا اسے پتہ ہی نہ تھا۔لیکن یہ ساری نعمتیں دکھلا کر اس سے کہا جائے گا کہ اب مانگ جو کچھ مانگنا ہے۔تو یہ بندہ پر خدا تعالی کا فضل ہوتا ہے کہ جب وہ ایک مقام پر پہنچ جاتا ہے تو اس سے آگے بڑھنے کا جوش اور ولولہ پیدا کرنے کے لئے اسے آگے کے نظارے دکھلائے جاتے ہیں۔چھٹی قسم تبشیری خواب کی ہے۔اس کے متعلق میں بتا چکا ہوں کہ یہ اس تبشیری خواب غرض کے لئے آتی ہے کہ انسان کو اگلے مقام پر جانے کے لئے تیار کرے۔ساتویں قسم مکالمہ خاص ہے۔جو ماموروں اور غیر ماموروں دونوں کے ساتھ ہوتا ہے۔لیکن ان دونوں کے مکالمہ میں کثرت اور قلت، شدت اور ضعف کا فرق ہوتا ہے ورنہ چیز ایک ہی ہوتی ہے جیسے آم تو ہر قسم کے آم کا نام ہے۔لیکن ایک سیر سیر کے ہوتے ہیں اور دوسرے چھوٹے چھوٹے۔پھر ایک زیادہ میٹھے ہوتے ہیں اور دوسرے کم۔ماموروں اور غیر ماموروں کے مکالمہ میں کثرت اور قلت کا فرق ہوتا ہے۔ورنہ دونوں پر غیب مصفی کا دروازہ کھولا جاتا ہے۔اس موقع پر میں ایک اور بات بیان کرتی الہام کی خواہش کرنے سے کیوں منع کیا گیا دینا ضروری سمجھتا ہوں اور وہ یہ کہ حضرت مسیح موعود نے بعض جگہ لکھا ہے کہ رویا اور الہام پانے کی خواہش نہ کرو۔قیامت کے دن تم سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ تمہیں کتنے الہام ہوئے۔مگر دوسری جگہ لکھتے ہیں کہ چونکہ