انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 176 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 176

164 حقیقته الرؤيا کا مرض کے طور پر ذکر تھا تو آپ نے حضرت خلیفہ اول سے پوچھا تھا کہ یہ کس طرح ہوتا ہے۔تو خدا تعالیٰ اپنے ماموروں کو شیطان کے دخل سے محفوظ رکھتا ہے تاکہ اس کی وجہ سے انہیں اور نظاروں اور کشوف کے دیکھنے میں کسی قسم کا شک نہ پیدا ہو۔تو حدیث النفس کے پہچاننے کی یہ ایک بہت پختہ علامت ہے کہ اس کا نقشہ نہایت باریک ہوتا ہے اور اس کے نظارہ کے سامنے آنے میں بہت سرعت اور تیزی ہوتی ہے۔اس پر اچھی طرح نظر نہیں جسم سکتی۔آنا فانا اس کا نقشہ اور رنگ بدلتا رہتا ہے۔دوسرے ایسی خوابوں میں خواب دیکھنے والے شخص کی خواہشات کا بڑا دخل ہوتا ہے۔اس لئے اس کی خواب کے پر لکھنے کے لئے اس کی خواہشات ، خیالات اور اس کے کاروبار کو دیکھنا چاہئے۔اس طرح ایسی خوابوں کا کھوج نکل آتا ہے اور اصلیت معلوم جاتی ہے اور ہر انسان اپنی خواب کے متعلق معلوم کر سکتا ہے کہ وہ حدیث النفس تو نہیں تیسری قسم شیطانی خواب ہے اس کے پہچاننے کے چند ایک ذرائع شیطانی خواب کی پہچان ہیں اول یہ کہ یہ خواب اس قسم کی ہوتی ہے کہ اس میں زیادہ روشنی نہیں ہوتی کیونکہ شیطان کو انسان پر پورا تسلط نہیں ہے اس لئے اس کی طرف سے جو بات دکھائی جاتی ہے اس کا نقشہ واضح اور صاف نہیں ہو تا۔دوم اس میں ایسی سرعت اور تیزی ہوتی ہے کہ وہ قلب پر اثر نہیں کرتی۔خدا کی طرف سے جو وحی ہوتی ہے اس میں بھی سرعت ہوتی ہے مگر وہ دل پر نقش ہوتی جاتی ہے۔سوم اگر اس خواب پر غور کیا جائے تو کوئی نہ کوئی بات ایسی مل جاتی ہے جس سے اس کا دین کے لئے مضر ہونا ثابت ہو جاتا ہے۔کیونکہ شیطان تو انسان سے اپنا مطلب نکالنے آتا ہے۔ورنہ اسے کیا ضرورت ہے کہ آئے۔مگر اس کے لئے یاد رکھنا چاہئے کہ شیطان ایسا چالاک اور فریبی ہے کہ کبھی نیک بات بتا کر بھی دھوکا دیا کرتا ہے۔اس لئے سوچ لینا چاہئے کہ یہ جو نیک بات بتائی گئی ہے اس سے کوئی بڑی نیکی تو ہاتھ سے نہیں جاتی۔حضرت خلیفہ اول سناتے تھے کہ شاہ ولی اللہ صاحب کی ایک بیٹی تھیں۔انہوں نے وظائف پڑھنے شروع کئے تو ایسا مزہ آیا کہ پہلے نوافل چھوڑ دیئے۔پھر سنتیں بھی چھوڑ دیں۔ایک دن ان کے بھائی نے ان کی حالت کو دیکھا تو بہت افسوس ہوا۔بہت سمجھایا مگر کچھ اثر نہ ہوا۔آخر انہوں نے ایک خاص طریق پر لاحول کا وظیفہ پڑھنے کے لئے ان کو بتایا۔اس کے بعد ایک دن وہ آئے تو کیا دیکھا کہ وہ سنتیں