انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 172 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 172

رالعلوم جلد ۳ حقیقته الرؤيا ہے اور اگر مرتب ہوں اور کبھی پوری ہو جائیں تو پھر ان کا صرف ایک جزو ہی پورا ہوتا ہے اور باقی غلط ہو جاتے ہیں۔مگر رحمانی خوابیں مرتب ہوتی ہیں اور ان میں بتائی ہوئی ساری کی ساری باتیں پوری ہو جاتی ہیں۔اس کی مثال حضرت خلیفۃ المسیح الاول کے بیٹے عبدالحی مرحوم کے متعلق حضرت مسیح موعود کی پیش گوئی ہے۔حضرت مسیح موعود نے خبر دی کہ مولوی صاحب کے ہاں لڑکا ہو گا۔یہ خبر اس وقت دی گئی جب مولوی صاحب بڑھاپے کی عمر میں تھے۔ان کی بی بی کو ایسی مرض تھی کہ اس کی وجہ سے پہلے سب بچے چھوٹی عمر میں ہی فوت ہو جاتے تھے۔دو تین سال سے زیادہ کوئی لڑکا زندہ نہیں رہتا تھا۔خود حضرت مولوی صاحب کی اولاد دوسری بیوی سے بھی سوائے لڑکیوں کے چھوٹی عمر میں ہی فوت ہو جاتی تھی۔ان حالات مخالف کی موجودگی میں حضرت مسیح موعود نے اپنا خواب بیان فرمایا کہ آپ کے ہاں بیٹا ہو گا اور اس دوسری بیوی سے ہو گا جس کی اولاد کے فوت ہونے پر دشمنوں نے ہنسی بھی کی تھی۔اب تو اس عمر میں ہو سکتا ہے کہ اولاد بند ہی ہو جائے لیکن ہم تسلیم کرتے ہیں کہ یہ خیال ہو سکتا تھا کہ آپ کے ہاں کوئی بچہ پیدا ہو۔مگر اس کے ساتھ رویا میں یہ شرط بھی لگی ہوئی تھی کہ وہ لڑکا ہو گا۔ہم اسے بھی سمجھ لیتے ہیں کہ قیاس سے ایسا ہو سکتا تھا۔مگر آگے جو علامات بتائی گئی ہیں کسی قیاس سے نہیں بتلائی جا سکتیں۔چنانچہ آپ کو دکھلایا گیا کہ (۱) وہ لڑکا خوش رنگ اور سانولا ہو گا(۲) خوبصورت ہو گا (۳) اس کی آنکھیں بڑی بڑی ہوں گی (۴) اس عمر سے بڑھ جائے گا جس میں پہلے بچے فوت ہوتے رہے ہیں (۵) اس کے جسم پر اور خاص کر پنڈلیوں پر پھوڑے ہوں گے (۶) وہ پھوڑے اتنی دیر تک رہیں گے کہ ان کے نشان قائم ہو جائیں گے (۷) ان پھوڑوں کا علاج بتایا گیا۔یہ اتنی باتیں ہیں جو قیاس سے ہرگز معلوم نہیں ہو سکتیں۔کیونکہ قیاس سے کوئی ایک آدھ بات ہی معلوم ہو سکتی ہے نہ کہ اس قدر با تیں۔اور اگر قیاس سے کوئی اس قدر شرطیں لگائے گا تو ضرور وہ قیاس جھوٹا نکلے گا۔مگر یہاں تو سب باتیں بعینہ درست نکلیں پس رحمانی اور شیطانی خوابوں میں یہ دوسرا امتیاز ہے۔(۳) تیسری علامت شیطانی خواب کی پہچان کی ایک یہ بھی ہے کہ اس خواب کی تائید کسی دوسرے شخص کی خواب سے نہیں ہوتی لیکن رحمانی خواب کی تائید خدا تعالیٰ دوسری جگہوں میں بکثرت پیدا کرتا رہتا ہے اور اپنے ماموروں کی تائید میں (1) ان کے ظاہر ہونے سے پہلے لوگوں کو خبر دیتا ہے (۲) ان کے وقت میں ایسے لوگوں کو خبر دیتا ہے جنہوں نے اس وقت تک ان