انوارالعلوم (جلد 4) — Page xx
و العلوم له تقریر کی ابتداء میں اپنی صحت کے متعلق بیان کرتے ہوئے اپنی محبت اور خیر خواہی کے ضمن میں فرمایا : اس وقت جبکہ بظاہر یہی معلوم ہوتا تھا کہ میری آخری گھڑیاں ہیں میرے دل میں اگر کوئی خلش تھی تو وہ یہی تھی کہ ابھی تک ہماری جماعت اس مقام پر نہیں پہنچی جس پر پہنچانے کی حضرت مسیح موعود کو خواہش تھی۔اس کے لئے میں نے اس گھڑی میں جو آخری سمجھی جاتی تھی دعا کی کہ الہی اس مصیبت کو ٹال دے اور ہماری جماعت کو وہ نور اور معرفت عطا کر جس سے ہمیشہ سے تیرے پاک بندے مخصوص رہے ہیں۔میرے موٹی نے میری اس وقت کی دعا قبول کرلی اور مجھے ہی موقع دے دیا کہ آپ لوگوں کو آپ کے فرائض کی طرف متوجہ کروں اور پھر اس بات کا موقع دیا کہ آپ لوگوں کو اس طرف توجہ دلاؤں کہ آپ کو کس مقصد مدعا اور غرض کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور کس طرف خدا کا رسول تمہیں لے جانا چاہتا تھا۔“ ، اس تقریر کے تعارف میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ایدہ اللہ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں۔اس جلسہ پر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی علمی تقریر عرفان الہی کے موضوع پر تھی بیماری کے نتیجہ میں آپ بہت کمزور ہو چکے تھے اور تقریر بھی اس حال میں کرنے کے لئے آئے کہ سر میں شدید درد تھا اور بات کرنی مشکل تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایسا حساس دل عطا فرمایا تھا کہ دور دور سے آنے والے مہمانوں کو مایوس کرنا گوارا نہ کیا اور اسی حالت میں تقریر کرنے چلے آئے۔مضمون نہایت مشکل تھا اور سامعین میں ناخواندہ دیہاتیوں سے لے کر نہایت اعلیٰ درجہ کے تعلیم یافتہ احباب تک شامل تھے پھر احمد ی ہی نہیں کثرت سے غیر از جماعت دوست بھی اس نوجوان خلیفہ کی علمی قابلیت کا شہرہ سن کر اور مرکز احمدیت کی غیر معمولی روحانی فضا کے تذکروں سے متأثر ہو کر تشریف لائے ہوئے تھے۔آپ نے نہایت سادہ اور سلیس زبان میں عرفانِ الہی کے مضمون کو بیان کرنا شروع کیا پہلے مضمون کا تعارف کرایا۔عرفانِ الہی کے معانی سمجھائے۔علم و عرفان کی اصطلاحوں میں فرق کر کے دکھایا۔یہ بتایا کہ خدا تعالیٰ علیم تو ہے عارف نہیں بلکہ خدا کے متعلق عرفان کا لفظ اطلاق پاہی نہیں سکتا۔عرفان کے لئے ضروری ہے کہ ایسی چیز کی جستجو کی جائے جس کا پہلے علم نہ ہو اور انسان حقیقت کی و