انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 63 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 63

وم جلد ۳۰ ۶۳ پیغام مسیح موعود کوئی اور بھی ایسا شہر ہے جس کے متعلق قبل از وقت ایک شخص نے اعلان کیا ہو کہ مجھے خدا تعالٰی نے الہام کے ذریعہ سے اس کی ترقی کی خبر دی ہے اور پھر وہ اس حیرت انگیز طریق سے بلا کسی دنیاوی سبب کے اس طرح ترقی پا گیا ہو۔وہاں کوئی سرکاری محکمہ نہ ہو حتی کہ تھانہ بھی نہ آپ لوگ غور کریں کہ کونسی چیز لوگوں کو اس کی طرف کھینچ رہی ہے۔پس اس میں کیا شک ہے کہ خدائی ہاتھ کام کر رہا ہے اسی طرح حضرت مسیح موعود کا الہام تھا کہ فَحَانَ انْ تُعَانَ وتُعرَفَ بَيْنَ النَّاسِ (تذکرہ صفحہ (۲) وقت آگیا ہے کہ خدا تیری مدد کرے اور دنیا میں تیرا نام روشن کر دے۔اور ہم دیکھتے ہیں کہ وہ شخص جس کو دنیا میں کوئی نہ جانتا تھا۔اور اس کے ضلع کے لوگ بھی اس سے واقف نہ تھے اس قدر شہرت پاتا ہے کہ دنیا بھر میں اس کا نام مشہور ہو جاتا ہے۔اور مختلف ممالک میں مختلف اقوام کے لوگ اس کی غلامی میں داخل ہوتے ہیں حتی کہ وہ قوم جو اس کے ملک میں حاکم ہے اس کے افراد بھی اس کی غلامی میں داخل ہوتے ہیں۔اور اس کو اپنا فخر سمجھتے ہیں۔بے شک بعض لوگ کہہ دیں گے کہ بعض اور گمنام لوگ بھی اسی طرح مشہور ہو گئے ہیں۔لیکن میں کہتا ہوں کہ اس کی نظیر بتاؤ کہ کسی شخص نے قبل از وقت گمنامی کی حالت میں الہام پا کر اعلان کیا ہو اور پھر باوجود اس کے بجائے مورد غضب الہی ہونے کے اس نے دنیا میں ترقی کی ہو۔اور اس طرح اس کا نام شہرہ آفاق ہوا اور ہر رتبہ کے اور ہر طبقہ کے لوگوں نے اس کی غلامی اختیار کی ہو۔اسی طرح حضرت مسیح موعود نے قبل ازی وقت الهام پاکر لکھا تھا کہ يَأْتُونَ مِنْ كُلِّ فَج عميق - اب کوئی قادیان جا کر دیکھ لے کہ وہاں امریکہ اور یورپ تک کے لوگ آتے ہیں۔یورپ میں تو آٹھ آدمی بیعت بھی کر چکے ہیں۔اسی طرح مصر سے افریقہ کے ساحلوں سے اور ہندوستان کے مختلف اقطاع سے لوگ آتے ہیں۔بھلا یہ کہنا کسی انسان کا کام ہو سکتا ہے۔کوئی ایسا انسان پیش تو کرو اور اگر اس کی نظیر نہیں ملتی تو حق پسندی طالب ہے اس بات کی کہ اس کے دعوی کو قبول کیا جائے۔جو باتیں میں نے سنائی ہیں کسی خاص مذہب سے تعلق نہیں رکھتیں۔ہر مذہب کے پیرو اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں ہاں مسلمانوں پر تو بالخصوص حجت ہے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَا يُفْلِحُ الظَّالِمُونَ ظالم کبھی کامیاب نہیں ہوتے۔پس اگر نعوذ باللہ مرزا جھوٹا ہے تو قرآن بھی جھوٹا ہو جاتا ہے۔اور اگر قرآن کریم سچا ہے تو مرزا صاحب کے دعوئی کے قبول کرنے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں۔اور اس جماعت کی ترقی بھی اس حالت کو پہنچ گئی ہے کہ اب وہ وقت نہیں رہا کہ لوگ کہیں کہ بہ