انوارالعلوم (جلد 3) — Page 54
۵۴ پیغام مسیح موعود کام یہ ہو کہ يَتْلُوا عَلَيْهِمُ ايْتِكَ تیری طرف سے جو اسے دلا کل ملیں انہیں سنائے وَ يُعَلِّمُهُمُ الكتب والحكمة اور انہیں کتاب اور حکمت سکھائے۔وَيُزَ كَيْهِمْ اور انہیں پاک کرے اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (البقره: ۱۳۰) بیشک تو بڑا غالب اور بڑی حکمت والا ہے۔پس یہ نبیوں کے کام ہیں۔جس طرح نبی کی بعثت کا زمانہ وہ ہوتا ہے جس میں دنیا دکھوں اور مصیبتوں میں پڑی ہوتی ہے اسی طرح نبی کی آمد کا وہ زمانہ ہوتا ہے جس میں لوگ خدا تعالیٰ سے قطع تعلق کر چکے ہوتے ہیں۔اور آپس میں لڑائی جھگڑے شروع کر دیتے ہیں۔ایسا کبھی نہیں ہوا کہ صلح اور امن اور خدا پرستی کے زمانہ میں کوئی نبی آیا ہو۔لیکن جب لڑائی فتنہ اور گند بڑھ جائے تو ضرور ہے کہ اس وقت نبی آئے اور اس فتنہ اور گند کو دور کرے۔جھگڑے اور فساد کے متعلق یہ بات خوب یاد رکھو کہ لوگوں کے لڑائی جھگڑے کا سبب ان کی وجہ ونائت اور کم حوصلگی ہوتی ہے۔لوگ اپنی طاقتوں کو بھلا دیتے ہیں اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر لڑنے لگتے ہیں جن لوگوں کے حوصلے بلند ہوتے ہیں وہ ذرا ذرا سی بات پر نہیں لڑتے اور جن کے حوصلے بلند ہوتے ہیں ان کا خدا تعالیٰ سے بھی بڑا تعلق ہوتا ہے۔خدا تعالیٰ ایسے لوگوں کی نسبت جن کے حوصلے پست ہو جاتے ہیں فرماتا ہے ابعث اللهُ بَشَرًا رَسُولاً (بنی اسراءیل : (۹۵) گویا انہوں نے انسان کو ایسا ذلیل اور حقیر سمجھ رکھا ہے کہ کہتے ہیں بھلا انسان خدا کا رسول ہو سکتا ہے یہ تو بہت مشکل بات ہے پس ایسے ہی زمانہ میں نبی کی بعثت ہوتی ہے۔جبکہ لوگوں کے حو صلے ادنی ہو جاتے ہیں۔نبی آکر ان کے حوصلے بڑھاتا اور ان میں بڑی بڑی طاقتیں بھر دیتا ہے۔حتی کہ آنحضرت ا جب آئے تو آپ کو انتہائی درجہ پر انسانی حوصلہ کو پہنچانے کا شرف دیا گیا اور کہا گیا قُل اِنْ كُنتُم تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْيِيكُمُ اللهُ (آل عمران : ۳۲) اے لوگو! تم تو یہ اعتراض کرتے ہو کہ ایک انسان کس طرح رسول ہو سکتا ہے لیکن خدا تعالٰی نے مجھے وہ کچھ سکھایا ہے کہ اگر تم میرے بتائے ہوئے احکام پر چلو گے تو خدا کے محبوب ہو جاؤ گے اور وہ تم سے پیار کرنے لگے گا۔یہ تو انسان کی ترقی کا اعلیٰ درجہ ہے جو خدا تعالیٰ نے آنحضرت ا کے ذریعہ سے دنیا کے سامنے پیش کیا لیکن جو نبی بھی آتا رہا ہے اس کا بڑا کام یہی رہا ہے کہ لوگوں کو دنائت سے بچائے۔چنانچہ انبیاء اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے بہت سے ذرائع اختیار کرتے رہے ہیں جن میں سے ایک زکوۃ و صدقہ کی تعلیم بھی ہے۔اسلام نے تو یہاں تک احتیاط کی ہے کہ زکوة