انوارالعلوم (جلد 3) — Page 53
۵۳ پیغام مسیح موعود قو میں گزری ہیں ان میں سے بعض نے اپنے اعمال کی وجہ سے سکھ پایا تھا اور بعض نے دکھ۔خدا چاہتا ہے کہ ان کی باتیں تمہیں کھول کھول کر سنا دے۔اور ان لوگوں کا راستہ تم کو بھی بتا دے جو ہلاکتوں سے بچ گئے کیونکہ اللہ ان کے حالات کو اچھی طرح جاننے والا اور ان حالات کے سنانے کی حکمت کو سمجھنے والا ہے اور اللہ چاہتا ہے کہ تم پر اپنی رحمت کرے۔اور وہ لوگ جو اپنی خواہشات کی پیروی کرنے والے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ ایک ہی طرف سارے کے سارے جھک جائیں۔یعنی تمام پہلوؤں کو مدنظر نہ رکھیں اگر عیش میں پڑیں تو اسی میں پڑے رہیں۔اگر تشدد کرنے لگیں تو اسی میں لگے رہیں۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسا نہیں ہونا چاہئے۔ہم تمہیں ایسی تعلیم دیتے ہیں جس کے ذریعہ انسان سارے پہلوؤں پر نظر رکھ سکتا ہے۔خواہشات کی پیروی کرنے والے کبھی سارے پہلوؤں کو مد نظر نہیں رکھ سکتے۔ایسے آدمی ایک طرف جھک جاتے ہیں۔اگر انہیں غصہ آتا ہے تو یہی چاہتے ہیں کہ پیس کر رکھ دیں اور اگر محبت کرتے ہیں تو کہتے ہیں سب کچھ قربان کر دیں۔خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ انسان کو ہم یہ بتانا چاہتے ہیں کہ فلاں موقعہ پر اس طرح کام کرو اور فلاں موقعہ پر اس طرح تا کسی بات میں حد سے بڑھنے کی وجہ سے نقصان نہ اٹھاؤ - يُرِيدُ اللهُ أَنْ يَخَفِّفَ عَنْكُمْ ، وَخُلِقَ الْإِنْسَانُ ضَعِيفًا - (النساء) ۲۹) اللہ یہ ارادہ کرتا ہے کہ تمہارے بوجھوں کو کم کر دے یعنی شریعت کی غرض یہ ہے کہ انسان کے بوجھ کو ہلکا کیا جائے نہ جیسا کہ بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ شریعت ایک جکڑ بند ہے۔شریعت کوئی بوجھ نہیں بلکہ ہدایت نامہ ہے۔چونکہ انسان کمزور تھا اور اللہ خوب جانتا تھا کہ اگر اسے کوئی ہدایت نامہ نہ دیا گیا تو بڑے بڑے نقصان اٹھائے گا اور بڑے تجربوں اور نقصان اٹھانے کے بعد کسی چیز کو مضر اور کسی چیز کو مفید قرار دے گا۔پس اس نے شریعتیں اور انبیاء کو اسی لئے بھیجا۔تو شریعت اور نبی دنیا میں صلح و آشتی، امن اور امان کے لئے آتے ہیں۔یہی وہ تعلیم ہے جس کو تمام انبیاء لے کر آئے اور یہی حضرت مسیح موعود لے کر آئے آپ کا یہی مشن تھا کہ خدا تعالیٰ کے ساتھ لوگوں کا تعلق مضبوط کریں۔اور دوسرے بندوں کا آپس میں ایسا سلوک کرا دیں کہ دشمنی اور عداوت رنج اور غصہ باقی نہ رہے۔تمام انبیاء انہیں باتوں کیلئے آتے رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ایک اور جگہ انبیاء کے کام کی تشریح فرما دی ہے حضرت ابراہیم انبیاء کے کام علیہ السلام دعا کرتے ہیں کہ الہی مکہ والوں میں ایک نبی مبعوث کر اور اس کا