انوارالعلوم (جلد 3) — Page 45
۴۵ پیغام مسیح موعود کہ ان کے بیج محفوظ رکھے جاتے ہیں۔تو خدا رب العالمین ہے جو گرم اور ٹھنڈے ملک کے رہنے والوں گوروں کالوں، مسلمانوں ، عیسائیوں ، یہودیوں ہندوؤں سب کا خدا ہے۔پس اسلام اور قرآن جس خدا کو دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے وہ ایسا خدا ہر قوم میں نبی نہیں ہے جس کا کسی خاص قوم سے تعلق ہو۔بلکہ وہ تمام قوموں کا خدا ہے اور ساری دنیا کا خدا ہے۔اسی لئے قرآن شریف یہ دعوی کرتا ہے کہ ساری ہی دنیا کی طرف رسول آتے رہے ہیں۔جیسا کہ فرمایا وَ إِنْ مِنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرُ ناطر : (۲۵) کوئی قوم اور کوئی امت ایسی نہیں گزری جس میں کوئی نبی مبعوث نہ ہوا ہو کیونکہ وہ رب العالمین ہے۔پس کس طرح ہو سکتا تھا کہ وہ سب اقوام میں نبی نہ بھیجا اور کسی خاص قوم میں بھیج دیتا لیکن اگر بائبل کو پڑھو تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے صرف حضرت نوح کی اولاد سے کلام کیا۔حضرت ابراہیم سے کلام کیا۔کیا ہندوستان کے لوگ خدا تعالیٰ کی مخلوق نہ تھے۔یا یورپ افریقہ اور امریکہ کے لوگوں کا خدا خالق نہ تھا جب سب اسی کی مخلوق تھے تو جس طرح اس نے چاند سورج ہوا پانی وغیرہ میں بخل نہیں کیا حالانکہ یہ جسم کے لئے سامان ہیں پھر کیونکر ممکن تھا کہ وہ سوائے خاص خاص لوگوں کے باقیوں کی روح کے لئے کوئی سامان نہ کرتا اور انہیں یونہی چھوڑ دیتا۔ہمیں اسلام نے ایسے خدا کی تعلیم دی ہے جو کسی خاص قوم کا نہیں ہے بلکہ تمام دنیا کا ہے۔اس لئے وہ سب دنیا کے نبیوں کو ماننے کی تعلیم دیتا ہے۔ہمارے سامنے جب کوئی شخص یہ پیش کرتا ہے کہ ہمارے ملک میں بھی فلاں نبی آیا تو ہم کہتے ہیں۔اللہ اکبر - کیوں ؟ اس لئے کہ اس سے وَإِنْ مِنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرُ کی صداقت ثابت ہوئی۔ایسے موقع پر ایک مسیحی کے لئے مشکل ہے۔ایک ہندو کے لئے مشکل ہے اور اسی طرح اسلام کے سوا باقی سب مذاہب کے لوگوں کے لئے مشکل ہے مگر اسلام کا ماننے والا کبھی شرمندہ نہیں ہوتا۔جب کبھی اس کے سامنے کوئی نبی پیش کیا جائے گا وہ بڑی خوشی سے اللہ اکبر کہہ کر کے گا کہ الحمد للہ۔وہ کتاب جس پر میں چلتا ہوں کیسی کیسی اعلیٰ صداقتیں اپنے اندر رکھتی ہے باوجود یکہ وہ ایسے ملک میں نازل ہوئی جس کے تعلقات دوسرے ممالک سے کئے ہوئے تھے اور کوئی ایسے ذرائع نہ تھے جن سے اسے دوسرے ممالک کے حالات معلوم ہو سکیں لیکن چونکہ اس کے نازل کرنے والا رب العالمین تھا اس لئے اس نے تمام دنیا کے نبیوں کی تصدیق فرما دی۔غرض دنیا میں ہر قوم اور ہر ملک میں نبی گزرے ہیں جیسا کہ قرآن شریف نے بتایا ہے کہ وَ إِنْ مِنْ