انوارالعلوم (جلد 3) — Page 558
شوم چاند ۳۰۰ ۵۵۸ زندہ خدا کے زیرو زمانہ میں ملنی تو الگ رہی ان سے دسواں حصہ بھی کبھی کسی پہلی جنگ میں جہازوں نے کام نہیں کیا۔کشتی کا لفظ رکھ کر جو گو بڑے جہاز پر بھی بولا جاتا ہے مگر خصوصاً چھوٹے جہاز پر استعمال ہوتا ہے بوٹس ( آبدوز کشتیوں) کے بے دردانہ حملہ کی طرف جو بحری محاربات میں سب سے زیادہ اہم ہے خاص طور پر اشارہ کیا گیا ہے۔یہ نشانات ان ہزاروں نشانات میں سے نمونہ کے طور پر بیان کئے گئے ہیں جو خدا تعالیٰ نے آپ کے ذریعہ دکھائے۔اور یہ نشانات ایسے ہیں کہ جن کے معلوم کر لینے کے بعد حضرت مسیح موعود کے دعوئی کی صداقت میں شک و شبہ کی گنجائش نہیں رہتی۔کیونکہ یہ انسان کا کام نہیں کہ وہ اس طرح کثرت کے ساتھ آئندہ ہونے والے واقعات کی خبریں دے اور وہ نہایت صفائی سے اپنے وقت پر پوری ہوں۔ایک یا دو یا تین ہوں تو انسان ان کو ڈھکو سلایا قیاس کہہ سکتا ہے۔لیکن اس کثرت سے بار بار پیشگوئیاں کرنا اور ان سب کا اپنے وقت پر پورا ہونا ایک ایسی بات ہے جو انسانی طاقت۔بالکل بالا ہے۔مختلف مذاہب کے پیرو جب کہ اپنی کتب میں اپنے نبیوں کی پیشگوئیوں کا حال پڑھ کر ان پر ایمان لاتے ہیں اور ان سے ان کی صداقت پر استدلال کرتے ہیں حالانکہ ان کتب کی نسبت شبہ بھی ہو سکتا ہے کہ شائد وہ پیشگوئیاں بعد میں ملا دی گئی ہوں تو پھر کیوں ان کو ان پیشگوئیوں کے ظہور پر جن کی صداقت میں کوئی شبہ ہی نہیں مسیح موعود کی صداقت کے اقرار سے انکار ہے۔یہ زمانہ پریس کا زمانہ ہے۔صرف زبانی روایت پر کسی بات کا دارو مدار نہیں ہو تا حضرت مسیح موعود کی جن پیشگوئیوں کا ذکر میں نے کیا ہے وہ قبل از وقت مختلف کتب اور اخبارات و رسائل میں شائع ہو چکی تھیں اس لئے کسی خطرناک سے خطرناک دشمن کو بھی یہ طاقت نہیں کہ وہ یہ بات کہہ سکے کہ یہ پیشگوئیاں بعد میں بنائی گئی ہیں۔کیونکہ نہ صرف یہ کہ وہ قبل از این وقت شائع ہو کر دوست و دشمن میں تقسیم ہو گئی تھیں بلکہ ان کے ثابت کرنے کا خدا تعالیٰ نے ایک اور بھی ذریعہ نکالا ہے اور وہ یہ کہ حضرت مسیح موعود ایک غیر مذہب کی حکومت کے ماتحت رہتے تھے اور اس گورنمنٹ کا یہ قاعدہ ہے کہ ہر کتاب یا رسالہ یا اشتہار یا اخبار جو شائع ہو اس کی ایک کاپی بغرض فائل گورنمنٹ کے دفتر میں بھیجی جائے۔پس اس بات کا ثبوت کہ آیا واقعہ میں پیشگوئیاں قبل از وقت بھی کی گئی تھیں یا نہیں۔خود گورنمنٹ کے کاغذات اور فائلوں سے