انوارالعلوم (جلد 3) — Page 559
العلوم چاند ۳ ۵۵۹ زندہ خدا کے زبر دست نشان بھی مل سکتا ہے اور یہ ایک ثبوت ہے جس کو کوئی رد نہیں کر سکتا۔پس ایسے نشانات اور ثبوتوں کے باوجود کیونکر ممکن ہے کہ ایک شخص حضرت مسیح موعود کے دعوے کو تو رد کر دے اور ان پہلے انبیاء کے دعوؤں کو مان لے جن کی پیشگوئیوں کا سوائے حضرت محمد مصطفے ﷺ کے کوئی ثبوت نہیں ملتا کہ آیا واقعہ میں وہ قبل از وقت شائع بھی کی گئی تھیں کہ نہیں۔پھر انسی پیشگوئیوں پر بس نہیں جو اس وقت تک پوری ہو چکی ہیں بلکہ ہم دیکھتے ہیں کہ متواتر نئے سے نئے نشانات آپ کی صداقت کے ثبوت میں اللہ تعالیٰ رکھاتا ہے۔چنانچہ انہی دنوں میں آپ کی دو اور زبردست پیشگوئیاں پوری ہوئی ہیں ایک فتح عراق کے متعلق اور ایک زار روس کی علیحدگی کے متعلق۔اول الذکر پیشگوئی کا ذکر ایک علیحدہ اشتہار میں کیا جاوے گا۔اس وقت ثانی الذکر پیشگوئی کو دنیا کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں اللہ تعالیٰ سعید روحوں کو اس سے نفع حاصل کرنے کی توفیق عطا فرما دے۔جیسا کہ پہلے لکھا جا چکا ہے حضرت مسیح موعود نے موجودہ جنگ کی نسبت ایک پیشگوئی اردو کی نظم میں شائع فرمائی تھی اس پیشگوئی میں ایک یہ شعر بھی تھا۔مضمحل ہو جائیں گے اس خوف سے سب جن و انس زار بھی ہو گا تو ہو گا اس گھڑی باحال زار یعنی اس جنگ کا خوف تمام بڑے اور چھوٹے آدمیوں کے دلوں میں گھر کرلے گا اور اس وقت زار روس کی حالت بھی نہایت زار ہو جائے گی۔یہ پیشگوئی براہین احمدیہ حصہ پنجم میں ۱۵ اپریل ۱۹۰۵ء میں لکھی گئی (روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۱۵۲) جیسا کہ اس کے نیچے نوٹ درج ہے لیکن یہ کتاب بعض وجوہ سے ۱۹۰۸ء میں شائع ہوئی۔اسی طرح ۱۹۱۴ء کے پرچہ ریویو آف ریلیجنز میں یہ پیشگوئی لفظ بلفظ مع ترجمہ انگریزی شائع کی اس پیشگوئی کے نیچے ایڈیٹر کی طرف سے جو نوٹ دیا گیا تھا اس میں اس حصہ پیشگوئی کی طرف خاص طور پر اشارہ کیا گیا تھا چنانچہ کہا گیا تھا کہ۔اس پیشگوئی میں جو تفصیل دی گئی ہے وہ مختلف امور پر شامل ہے اور اس کی خطرناک تفاصیل ایسی ہیبت ناک ہیں کہ ان کو پڑھ کر انسان کے بدن پر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور بدن کانپ اٹھتا ہے زار روس کے ذکر سے اس پیشگوئی میں ایک خاص دلچسپی پیدا ہو گئی ہے۔" 1910 ریویو آف ریلیجنز ا گست ۱۹۱۲ شه صفحه ۳۰۷