انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 537 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 537

انوار العلوم جلد ۳۰ ۵۳۷ ذکرالی ، O المُستَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ ، غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ فرمایا یہ دعا ہے۔تو پہلے خدا تعالیٰ نے ذکر رکھا ہے اور بعد میں دعا۔دنیا میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ جب کوئی سوالی کسی کے پاس آتا ہے تو پہلے اس کی تعریف کرتا ہے اور پھر اپنا سوال پیش کرتا ہے۔تو جب انسان خدا کے حضور جاتا ہے تو اسے پہلے خدا تعالیٰ کی قدرت اور اپنے عجز کا اقرار کر لینا چاہئے۔حضرت یونس علیہ السلام نے بھی اپنے متعلق اسی طرح دعا کی ہے کہ لا اله الا انت سُبْحَنَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّلِمِينَ (الانباء: ۸۸) پہلے خدا تعالیٰ کی تسبیح بیان کی ہے اور پھر اپنی حالت پیش کی ہے۔پھر رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں مِّنْ شَغَلَهُ ذِكْرِى عَنْ مَسْئَلَتِى اعطَيْتُهُ أَفْضَلَ مَا أُعْطِي السَّائِلِينَ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو کوئی میرے ذکر میں لگا رہتا ہے اسے میں اس کی نسبت جو مانگتا رہتا ہے زیادہ دیتا ہوں۔اس حدیث کا یہ مطلب نہیں کہ دعا نہیں کرنی چاہئے۔کیونکہ سورۃ فاتحہ جو ام القرآن ہے اس میں ذکر کے ساتھ دعا بھی ہے۔اور قرآن کریم میں اور احادیث میں کثرت سے دعائیں سکھائی گئی ہیں۔بلکہ یہ مطلب ہے کہ اس شخص سے جو ذکر نہ کرے اور دعا ہی کرے اس کو زیادہ دیا جاتا ہے جو دعا کے علاوہ ذکر بھی کرے اور دعا کے وقت میں سے بچا کر ذکر کے لئے وقت خرچ کرے۔نواں فائدہ یہ ہے کہ گناہ معاف ہوتے ہیں رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو تکبیرو تحمید و تسبیح کرتا ہے۔اس کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں گو مثل زبد البحر یعنی سمندر کی جھاگ کے برابر کیوں نہ ہوں۔( ترندی ابواب الدعوات باب ما جاء في الدعا اذا اوى الى فراشه) دسواں فائدہ یہ ہے کہ عقل تیز ہو جاتی ہے۔اور ذاکر پر ایسے ایسے معارف اور نکات کھلتے ہیں کہ وہ خود بھی حیران ہو جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ الليلِ وَالنَّهَارِ لَايْتِ لِأُولِى الاَلبَابِ ٥ الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَامًا وَ قُعُودًا وَ عَلى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا با طلا ، سُبُحْنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ٥ ( آل عمران : ۱۹۱-۱۹۲) کہ زمین اور آسمان کی پیدائش اور دن اور رات کے اختلاف میں بہت سی نشانیاں ہیں مگر انہی لوگوں کے لئے جو عقل والے ہوں۔پھر بتایا کہ عقل والے لوگ وہ ہوتے ہیں جو خدا تعالیٰ کے ذکر میں مشغول اور اس کے کاموں پر فکر کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔