انوارالعلوم (جلد 3) — Page 514
العلوم جلد۔۵۱۴ ذکرالی کہ سونے کے وقت کامل ارادہ کر لیا جائے کہ تہجد کے لئے ضرور پانچواں طریق یہ ہے اٹھوں گا۔انسان کے اندر خدا تعالٰی نے یہ طاقت رکھی ہے کہ جب وہ زور سے اپنے نفس کو کوئی حکم کرتا ہے تو وہ تسلیم کرلیتا ہے اور یہ ایک ایسی بات ہے جس کو تمام دانا مانتے آئے ہیں۔پس تم سونے کے وقت پختہ ارادہ کر لو کہ تہجد کے وقت ضرور اٹھیں گے۔اس طرح کرنے میں گو تم سو جاؤ گے مگر تمہاری روح جاگتی رہے گی کہ مجھے حکم ملا ہے کہ فلاں وقت جگاتا ہے اور عین وقت پر خود بخود تمہاری آنکھ کھل جائے گی۔ایسا ہے کہ جس کے کرنے کی میں صرف ایسے ہی شخص کو اجازت دیتا ہوں جو یہ چھٹا طریق دیکھتا ہو کہ میرا ایمان خوب مضبوط ہے اور وہ یہ کہ وتروں کو عشاء کی نماز کے ساتھ نہ پڑھے بلکہ تہجد کے وقت پڑھنے کے لئے رہنے دے۔عام طور پر یہ بات پائی جاتی ہے کہ انسان فرض کو خاص طور پر ادا کرتا ہے مگر نفل میں ستی کر جاتا ہے۔پس جب نفلوں کے ساتھ واجب مل جائے گا تو اس کی روح کبھی آرام نہ کرے گی جب تک کہ اسکو ادا نہ کرے اور اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ نفس سستی نہیں کرے گا۔لیکن اگر و تر پڑھے ہوئے ہوں اور تہجد کے وقت آنکھ کھل بھی جائے تو نفس کہہ دیتا ہے کہ وتر تو پڑھے ہوئے ہیں نفل نہ پڑھے تو نہ سہی۔مگر جب یہ خیال ہو گا کہ وتر بھی پڑھنے ہیں تو ضرور اٹھے گا اور جب اٹھے گا تو نفل بھی پڑھ لے گا۔لیکن جیسا کہ میں نے پہلے بتایا ہے اس کے لئے شرط ہے کہ ایمان بہت مضبوط ہو۔جب ایمان مضبوط ہو گا تو وتروں کے لئے ضرور اٹھے گا۔ورنہ وتروں کے پڑھنے سے بھی محروم رہے گا۔بھی انہیں لوگوں کے لئے ہے جو روحانیت میں بہت بڑھے ہوئے ہیں۔اور ساتواں طریق وہ یہ کہ عشاء کی نماز کے بعد نفل پڑھنے شروع کر دیں اور اتنی دیر تک پڑھیں کہ نماز میں ہی نیند آجائے اور اتنی نیند آئے کہ برداشت نہ کی جاسکے اس وقت سوئے۔باوجود اس کے کہ اس میں زیادہ وقت لگے گا مگر سویرے نیند کھل جائے گی یہ روحانی ورزش ہوتی ہے۔وہ ہے جس کا ہمارے صوفیاء میں رواج تھا میں نے اس کی ضرورت محسوس آٹھواں طریق نہیں کی مگر ہے مفید۔اور وہ یہ ہے کہ جن دنوں میں زیادہ نیند آئے اور وقت پر آنکھ نہ کھلے ان میں نرم بستر ہٹا دیا جائے۔