انوارالعلوم (جلد 3) — Page 431
علوم جلد ۳۰ ۳۱ جماعت احمدیہ کے فرائض اور اسکی ذمہ داریاں نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔لیکن آپ نے بھی اپنی طرف سے کوئی بات نہیں بتائی۔بلکہ قرآن اور حدیث سے ہی اخذ کر کے سب کچھ بتایا ہے۔میں بھی وہ باتیں قرآن کریم اور احادیث سے ہی اخذ کر کے بتاؤں گا۔اور وہ ایسی باتیں ہیں جو خدا تعالیٰ نے مجھے بتائی ہیں اور جو تعلق باللہ اور ایمان مضبوط اور تازہ کرنے کے لئے نہایت ضروری ہیں۔لیکن ان میں سے بہت سی ایسی ہیں جو پہلے کسی نے نہیں بیان کیں۔بلکہ مجھے خدا تعالیٰ نے سمجھائی ہیں۔میں نے اہل علم لوگوں کی کتابوں کو دیکھا ہے مجھے تو وہ باتیں کہیں نظر نہیں آئیں ممکن ہے کسی نے بیان کی ہوں لیکن میری نظر سے نہیں گذریں آج ہی ان کے متعلق کیوں ذکر کر رہا ہوں اس لئے کہ میں نے ابتدائے خلافت سے یہ طریق رکھا ہوا ہے کہ جو باتیں میرے نزدیک خاص طور پر ضروری ہوں۔ان کو میں جلسہ کے آخری دن میں بیان کیا کرتا ہوں اور اسکی وجہ یہ ہے کہ کئی لوگ آخری دن تک یہاں نہیں ٹھرتے بلکہ پہلے ہی چلے جاتے ہیں۔میں کہتا ہوں کہ جو مخلص ہوں گے وہ آخری دن تک ٹھہریں گے اور میری باتوں کو بھی سنیں گے۔اس لئے میں عمد ا ایسی باتوں کو آخری دن بیان کرتا ہوں تاکہ جو محبت اور شوق سے نہیں ٹھہرتے اور چلے جاتے ہیں ان کو میں بھی نہ سناؤں۔پس اس دفعہ بھی وہ باتیں میں آخری دن بیان کروں گا اور جو کوئی اس دن ٹھہرے گا فائدہ اٹھائے گا۔۔اب میں اپنے مضمون کی طرف آتا ہوں۔یہ مضمون بھی بڑا ضروری اور اہم ہے کیونکہ اس میں جماعت احمدیہ کے فرائض اور اس کی ذمہ داریاں بیان کی جائیں گی۔عجیب اتفاق ہے کہ آج میر حامد شاہ صاحب نے جو نظم پڑھی ہے اس کے متعلق میرا مضمون ہے۔یہ خدا تعالیٰ ہی کا تصرف ہوتا ہے۔مجھ سے بھی کئی دفعہ ایسا ہوا ہے۔ایک دفعہ حضرت خلیفۃ المسیح الاول نے مجھے خطبہ جمعہ پڑھنے کے لئے فرمایا۔وہ جمعرات کا دن تھا۔اسی دن شام کے وقت میرے دل میں ایک تحریک ہوئی اور وہ یہ کہ میں یہاں کی جماعت کے سامنے اس آیت پر خطبہ پڑھوں کہ وَقَالَ الرَّسُولُ يُرَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا قصه گو (الفرقان (۳۱) اور یہ خیال ایسا غالب ہوا کہ میں نماز پڑھ رہا تھا نماز میں ہی میری توجہ اس طرف پھر گئی۔اور اس آیت کے متعلق مجھے بہت وسیع مطالب القاء کے طور پر سمجھائے گئے۔میں بڑا حیران ہوا کہ یہ کیا معاملہ ہے۔دوسرے دن میں نے خطبہ کے لئے تیاری کی۔عام طور پر میری یہ عادت نہ تھی اور نہ اب ہے کہ خطبہ کے لئے تیاری کر کے جاؤں۔بعض دفعہ تو ایسا