انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 425 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 425

r ۴۲۵ متفرق امور بھی آتا ہے کہ اگر بیسیوں آدمی مل کر دھکا دیں تو بھی وہ ہل نہیں سکتا۔پس جب شک جڑھ پکڑ جائے اور مضبوط ہو جائے تو پھر اس کا دور کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔کیونکہ ایسا زنگ لگ جاتا ہے جو صاف نہیں ہو سکتا۔اللہ تعالٰی بھی فرماتا ہے خَتَمَ اللهُ عَلَى قُلُوبِهِمُ اس وقت خدا تعالیٰ ایسے لوگوں کی ہلاکت اور تباہی کا فیصلہ کر چکا ہوتا ہے۔پس پیشتر اس کے کہ کسی کے دل میں شک پیدا ہو کر پیدا بڑھے اور پیشتر اس کے کہ اس کو ہلاکت اور تباہی کی طرف لے جائے۔بہتر بلکہ ضروری ہے کہ اپنے شک و شبہ سے مجھے اطلاع دی جائے یا ان لوگوں سے ملا جائے۔جن کو خدا تعالٰی نے ازالہ شکوک کی قابلیت بخشی ہے۔پس آپ لوگوں کو میری یہ نصیحت ہے کہ اگر آپ کے سامنے کوئی ایسا سوال پیش کیا جائے۔جس کا آپ کو جواب نہ آتا ہو یا کوئی آپ کے دل میں کسی قسم کا شبہ اور وسوسہ ڈالے تو بجائے اس کے کہ اس کو چھپاؤ فورا ظاہر کر دو۔کیا ایسا ہوتا ہے کہ کسی کے دل میں کوئی مرض ہو یا تپ چڑھا ہو تو وہ اسے چھپائے اور کسی کو نہ بتائے۔ہر گز نہیں۔بلکہ وہ تو بھاگتا ہوا طبیب کے پاس جائے گا۔پس جب درد اور تپ کے لئے جسمانی طبیبوں کے پاس لوگ جاتے اور اپنی بیماری کھول کھول کر بتا کر علاج چاہتے ہیں۔اور اس کے لئے روپیہ اور وقت صرف کرتے ہیں۔تو پھر کیا وجہ ہے جب ان کے ایمان میں کوئی نقص پیدا ہو یا ان کے دل میں شیطان کوئی شبہ ڈالے اور دھوکا دینا چاہے تو اس کے دور کرنے کے لئے کوئی کوشش نہیں کی جاتی۔میں آپ لوگوں کو درد دل سے نصیحت کرتا ہوں کہ جس کو کوئی شبہ ہو وہ مجھے اطلاع دے میں اس کو جواب پہنچا دوں گا اور وہ اس سے ازالہ کرلے۔بعض دفعہ یہ بھی ہوتا ہے کہ کسی ناواقف کے سامنے شبہ پیش کیا جاتا ہے مگر اس کے تسلی بخش جواب نہ دینے کی وجہ سے شبہ اور بھی مضبوط ہو جاتا ہے۔ایسے لوگوں کو میں کہتا ہوں کہ وہ اپنے شکوک میرے سامنے کیوں پیش نہیں کرتے اور کیوں مجھ سے جواب نہیں پوچھتے انہوں نے میری بیعت کسی فائدہ کے لئے ہی کی ہے اگر وہ مجھ سے ایسی باتوں میں فائدہ نہیں اٹھاتے تو ان کی بیعت کس غرض کے لئے ہوئی۔انہوں نے میری بیعت اسی لئے کی ہے کہ جماعت قائم رہے اور جماعت میں کسی قسم کا فتنہ نہ ہو۔پس جب کوئی شخص ان کے دل میں کوئی وسوسہ یا شبہ ڈالتا ہے تو وہ کیوں) مجھ سے اس کا ازالہ نہیں کرواتے۔خلیفہ کا وجود ایک حجت اور اصل ہے ان کے لئے خدا تعالٰی کی طرف سے۔چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصّلاتِ ليَسْتَخْلَفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِى أرتضى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمنا ( النور : ۱۵۶) پس تم لوگ اس روحانی کھانا سے فائدہ