انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 424 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 424

۴۲۴ متفرق امور کو اپنے دل سے نکال نہ دیا جائے تو پھر اتنا بڑھ جاتا ہے کہ پھر اس کا اکھیڑنا مشکل ہو جاتا ہے۔پس جس وقت کوئی شک پیدا ہو اسی وقت اس کے اکھیڑنے کی کوشش کرنی چاہئے۔میں آپ سب لوگوں کو ایک نصیحت کرتا ہوں اور اگر آپ لوگ اس کو مانیں گے تو بہت فائدہ میں رہیں گے اور وہ یہ کہ اگر کسی کے دل میں کوئی شک پیدا ہو تو اس کو چھپایا نہ جائے بلکہ پیش کیا جائے۔کیونکہ چھپانا بہت نقصان پہنچاتا ہے اور بیان کرنا بہت فائدہ مند ہوتا ہے۔میں نہیں سمجھتا کہ شک کو چھپایا کیوں جاتا ہے۔دنیاوی باتوں کے متعلق تو مجھ سے مشورہ لیا جاتا ہے اور دعا کرائی جاتی ہے۔لیکن جب ہمارے دشمنوں کی طرف سے ان کے دلوں میں کسی قسم کے شکوک ڈالے جاتے ہیں۔تو اس وقت مجھے نہیں لکھتے اور ان کا ازالہ نہیں کراتے۔شاید اسے شرم سمجھتے ہیں۔لیکن اکثر اوقات یہ شرم بے شرمی ہو جاتی ہے۔ام المؤمنین عائشہ کہتی ہیں کہ میرے سامنے آنحضرت سے ایک عورت نے آکر پوچھا کہ کیا اگر عورت کو احتلام ہو جائے تو نہائے۔عائشہ کہتی ہیں مجھے یہ سن کر بہت شرم آئی اور میں نے اس کو اپنی طرف کھینچ کر کہا یہ تو نے کیا کہا۔عورتوں کو بد نام کر دیا تجھے یہ کہتے ہوئے شرم نہیں آئی۔آنحضرت ﷺ نے یہ سن کر فرمایا دین کی باتوں میں شرم نہیں ہوتی۔تو آپ لوگوں کو بھی دین کے معاملہ میں شرم نہیں کرنی چاہئے۔اگر کسی کے دل میں کوئی شک پیدا ہو یا اس سے کوئی ایسی بات پوچھی جائے جس کا اسے جواب نہ آتا ہو تو وہ مجھے لکھ دے۔جلسہ کے موقعہ پر اس قسم کی ہزاروں باتوں کے متعلق اگر بتایا جائے تو پھر اور کام کس طرح ہوں۔کیونکہ وقت بہت کم ہوتا ہے۔اس لئے آپ لوگوں کو چاہئے کہ دوسرے ایام میں ان باتوں کا ازالہ کروائیں۔یہاں آکر تسلی کریں اور اگر ایسی ضرورت ہو کہ یہاں سے کوئی آدمی بھیجا جائے تو وہ بھی ہم بھیج دیا کریں گے۔کیا دین کوئی ایسی حقیر چیز ہے کہ جس کی کچھ پرواہ نہیں ہونی چاہئے اور ردی کی طرح پھینک دینا چاہئے۔غالب کہتا ہے۔اور بازار سے لے آئے اگر ٹوٹ گیا ساغر جسم سے مرا جام سفال اچھا ہے اس میں اس نے اپنے جام کی تعریف یہ کی ہے کہ اگر ایک ٹوٹ گیا تو اور لے آئیں گے۔یہی حال اس وقت لوگوں نے ایمان کا کر رکھا ہے۔ایمان کی عظمت دل میں نہیں رہی۔سمجھتے ہیں کہ ایک عقیدہ چھوڑا تو دوسرا اختیار کرلیں گے۔دوسرا چھوڑا تو تیرا اختیار کرلیں گے۔لیکن آپ لوگ یا درکھیں کہ ایمان بڑی اعلیٰ اور قیمتی چیز ہے۔اس کی آپ لوگوں کو خاص طور پر حفاظت اور قدر کرنا چاہئے۔حضرت خلیفہ المسیح الاول شک کو آم کی گٹھلی سے اس طرح تشبیہ دیا کرتے تھے کہ ایک وقت ہوتا ہے جبکہ چھوٹے چھوٹے بچے اکھیڑ کر پیپیاں بنا لیتے ہیں۔لیکن ایک وقت وہ ہے سے مسلم مع شرح النووى كتاب الحيض باب وجوب الغسل على المودة بخروج المنى منها