انوارالعلوم (جلد 3) — Page 388
م جلد۔۳۸۸ پیغام صلح کے چند الزامات کی تردید جماعت میں مسلم اثر نہ رکھتا ہو تو وہ اس طرح کر سکتا ہے کہ اپنی طرف سے اعلان مباہلہ کر دے جیسا کہ حضرت صاحب نے اپنے مخالفوں کو اجازت دی تھی کہ اگر وہ چاہیں تو اپنی طرف سے اعلان مباہلہ کر دیں اور میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے یقین رکھتا ہوں کہ ایسا شخص بھی اگر تو بہ نہ کرے گا تو عذاب الہی سے محفوظ نہیں رہے گا۔لیکن دو طرفہ مباہلہ میں تب ہی کر سکتا ہوں جبکہ میرے مقابلہ میں کوئی ایسا شخص ہو جو یا تو کسی جماعت کا لیڈر ہو یا مثل لیڈر کے ہو۔ان واضح اور آسان طریقوں کے معلوم کرنے کے بعد بھی اگر آپ لوگ مقابلہ سے جی چرائیں تو ی ہماری طرف سے آپ پر حجت ہو چکی ہے پھر آپ کا معاملہ خدا سے ہو گا اور راستی پسند طبائع خود فیصلہ کرلیں گی کہ کون حق پر ہے اور کون فریب کے ساتھ اپنی جان بچانا چاہتا ہے۔مباہلہ کے متعلق جو اعتراض مجھ پر کیا گیا ہے اس کا جواب دینے کے بعد میں الزامات کے جواب دینے کی طرف متوجہ ہوتا ہوں جن کو پیغام صلح نے سوالات کے رنگ میں شائع کیا ہے۔اول۔یہ الزام ہے کہ باوجود انجمن کی مالی حالت کے کمزور ہونے کے اور تخفیف کے سوال کے در پیش ہونے کے کیا میں نے عزیزم مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے کو ایک سو روپیہ ماہوار پر ہائی سکول کا پرنسپل مقرر کیا ہے۔سو اس کا جواب یہ ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ کام کی زیادتی کی وجہ سے اس وقت انجمن کے سامنے مالی مشکلات ہیں اور اس کے متعلق حضرت مسیح موعود کے مخلصین سے چندوں کی تحریکیں بھی کی جاتی ہیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس وقت ہندوستان اور باہر کے بلاد میں تبلیغ اسلام و سلسلہ احمدیہ زور شور سے جاری ہے اور اس کا لازمی نتیجہ اخراجات کی زیادتی ہے جس کے لئے جماعت کو واقف رکھنے کے لئے اور انہیں ان ضروریات کے پورا کرنے کی طرف توجہ دلانے کے لئے وقتاً فوقتاً تحریکوں کا کیا جانا ضروری ہوتا ہے اور اس پر بھی ہمیشہ غور ہوتا رہتا ہے کہ ایسی مدات خرچ جن کو بند کرنے سے چنداں نقصان نہیں ہوتا ان کو بند کر دیا جائے لیکن پھر بھی یہ بات نہیں کہ اس وقت ان دنوں سے زیادہ مالی مشکلات ہیں جو اس وقت تھیں جبکہ مولوی محمد علی صاحب نے اس کام کو ترک کر کے لاہور کی اقامت اختیار کرلی تھی اس وقت بھی مالی حالت ویسی ہی ہے بلکہ اس سے عمدہ ہے جیسی کہ اس وقت تھی لیکن چونکہ اخراجات تبلیغ زیادہ ہو گئے ہیں۔اس لئے تنگی معلوم ہوتی ہے اور وہ تنگی بھی کوئی تنگی نہیں کیونکہ خدا تعالیٰ نے مجھے ایک ایسی مخلص جماعت عطا فرمائی ہے جو دین کے لئے اپنے اموال کو