انوارالعلوم (جلد 3) — Page 387
علوم جلد ۳۰ ۳۸۷ پیغام صلح کے چند اثر امات کی تردید انہوں نے اپنے ایک خط میں اسی خیال کا اظہار کیا ہے۔غرض مباہلہ کے متعلق جو پہلو بھی لو ہمارا پہلو بھاری رہتا ہے اور ہم مباہلہ سے ہر گز انکاری نہیں بلکہ اس کے لئے ہر وقت تیار ہیں۔اگر مولوی محمد علی صاحب مباہلہ سے ڈرتے ہیں اور یہ عذر پیش کرتے ہیں کہ باوجود ان کے مسلمان بھائیوں کو کافر کہنے کے میں پھر بھی مسلمان کا مسلمان ہی ہوں اس لئے وہ مجھ سے مباہلہ نہیں کر سکتے تو خواجہ کمال الدین صاحب نے صریح طور پر ہم پر کفر کا فتوی دیا ہے اور اپنے متعدد لیکچروں میں ہم سے اصولی اختلاف ہونے کا اعلان کیا ہے انکو میرے مقابلہ میں لے آؤ اور مباہلہ کے لئے تیار کرو۔میں ان سے مباہلہ کرنے کے لئے بھی تیار ہوں کیونکہ ان کی نسبت بھی میں جانتا ہوں کہ ایک جماعت میں ان کو رسوخ حاصل ہے۔پس ان کے مباہلہ کا اثر ایک جماعت پر پڑ سکتا ہے۔اب ان تمام باتوں کے بعد آپ لوگ مولوی محمد علی کی طرح یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم بددعا کیوں کریں۔اگر ہماری دعائیں خدا تعالیٰ کے حضور اتنی ہی قبول ہیں تو دعا ہی کیوں نہ کریں کہ آپکو ہدایت ہو کیونکہ اس قول آپ میری بات پر اعتراض نہیں کریں گے بلکہ قرآن کریم پر اعتراض کریں گے کیونکہ مباہلہ اگر ایسا ہی فضول ہے تو قرآن کریم نے رسول کریم کو اسکی تلقین کیوں کی۔کیا نعوذ باللہ رسول کریم کی دعائیں قبول نہیں ہوتی تھیں کہ مخالفوں کو تباہی کے لئے مباہلہ کا دیا۔پس جبکہ رسول کریم یے جیسا انسان جسکی دعا ئیں خاص طور پر قبول ہوتی تھیں۔کسی ضرورت کے لئے بجائے اپنے مخالفوں کی ہدایت کی دعائیں کرنے کے ان سے مباہلہ کرنے پر مجبور ہوا تھا تو آپ لوگوں کی دعا ئیں اس برگزیدہ خدا سے زیادہ قبولیت کا درجہ نہیں رکھتیں کہ اب آپ مباہلہ کے ہتھیار سے مستعفی ہو گئے ہیں اور بجائے اس کے کہ اپنے مخالف سے مباہلہ کرکے فیصلہ کریں آپ یہ کر سکتے ہیں کہ دعا کر کے اسے راہ ہدایت پر لے آئیں۔(یہ پہلو جو میں نے بیان کیا ہے۔مولوی صاحب کی تحریر کا ایک پہلو ہے کیونکہ ان کی تحریر کے دوسرے معنے یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ مباہلہ ہم کیوں کریں۔اگر ہماری دعائیں ایسی ہی قبول ہوتی ہیں تو کیوں نہ تمہارے لئے دعا کریں کہ تم کو ہدایت ہو یعنی ہماری دعائیں تو قبول ہی نہیں ہوتیں تو ہمیں مباہلہ کرنے کی کس طرح جرات ہو۔اگر دعائیں قبول ہوتیں تو بجائے مباہلہ کے تمہارے لئے دعا کرتے) میں آخر میں یہ بھی اعلان کرتا ہوں کہ اگر کوئی ایسا شخص جو کسی جماعت کا لیڈر نہ ہو یا جو کسی