انوارالعلوم (جلد 3) — Page 359
۳۵۹ سیرت مسیح موعود " ہم نے اس کا بیان سنتے ہی اس کو بعید از عقل سمجھا۔کیونکہ اول تو اس کا بیان جو ہمارے سامنے ہوا اس بیان سے مختلف تھا۔جو امرت سر کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ صاحب بہادر کے سامنے ہوا۔علاوہ ازیں اس کی وضع قطع ہی شبہ پیدا کرنے والی تھی۔دوسرے ہم نے اس کے بیانات میں یہ عجیب بات دیکھی کہ جس قدر عرصہ وہ بٹالہ میں مشن کے ملازموں کے پاس رہا اس کا بیان مفصل اور طویل ہوتا گیا۔چنانچہ اس نے ایک بیان - ۱۲- اگست کو دیا اور ایک ۱۳ اگست کو اور دوسرے دن کے بیان میں کئی تفصیلات بڑھ گئیں۔جو پہلے دن کے بیان میں نہ تھیں۔چونکہ اس سے ہمیں شبہ پیدا ہوا کہ یا تو اسے کوئی سکھلاتا ہے یا اسے بہت کچھ معلوم ہے جسے وہ ظاہر نہیں کرنا چاہتا اس لئے ہم نے صاحب سپر نٹنڈنٹ پولیس کو کہا جو ایک یورپین آفیسر تھے کہ اس کو مشن کے قبضہ سے نکال کر اپنی تحویل میں رکھو۔اور پھر بیان لو۔انہوں نے اسے مشن کمپونڈ سے نکال لیا۔اور جب آپ نے اس سے بیان لیا تو بلا کسی وعدہ معافی کے وہ رو کر پاؤں پر گر گیا اور بیان کیا کہ مجھ سے ڈرا کر یہ سب کچھ کہلوایا گیا ہے میں اپنی جان سے بیزار ہوں اور خود کشی کے لئے تیار تھا اور در حقیقت جو کچھ میں نے مرزا صاحب کے خلاف بیان کیا وہ عبد الرحیم ، وارث الدین اور پریم داس عیسائیوں کی سازش اور ان کے سکھانے سے کہا ہے۔مرزا صاحب نے نہ مجھ کو بھیجا اور نہ میرا ان سے کوئی تعلق تھا۔چنانچہ جو دقت ایک دن کے بیان میں آتی دوسرے دن یہ مجھے سکھا دیتے اور مرزا صاحب کے جس مرید کی نسبت میں نے بیان کیا تھا کہ اس نے بعد از قتل مجھے پناہ دینی تھی اس کی شکل سے بھی میں واقف نہیں نہ اس کا نام سنا تھا۔انہوں نے خود ہی اس کا نام اور پتہ مجھے یاد کرا دیا۔اور اس ڈر سے کہ میں بھول نہ جاؤں میری ہتھیلی پر پنسل سے نام لکھ دیا کہ اس وقت دیکھ لینا اور یہ بھی کہا کہ جب پہلے مجھ سے مرزا صاحب کے خلاف بیان لکھوایا تو ان عیسائیوں نے خوش ہو کر کہا کہ اب ہماری دل کی مراد بر آئی یعنی اب ہم مرزا صاحب کو پھنسا ئیں گے۔ہم یہ تمام تفصیل لکھ کر مجسٹریٹ صاحب بہادر نے آپ کو بری کیا۔اس مقدمہ پر آپ کے مخالف اس قدر خوش تھے کہ ایک آریہ وکیل نے بلا اجرت اس میں مسیحیوں کی طرف۔پیروی کی اور مسلمان مولوی بھی آپ کے خلاف گواہی دینے آئے۔غرض مسیحی ہندو اور مسلمان مل کر آپ پر حملہ آور ہوئے اور بعض ناجائز طریق بھی اختیار کئے گئے۔لیکن خدا تعالیٰ نے کپتان ڈگلس کو پیلاطوس سے زیادہ ہمت اور حوصلہ دیا۔انہوں نے ہر موقعہ پر یہی کہا کہ